امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے قریب ہونے کے اشارے کے باوجود ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی عوام کے حقوق کے حصول کے لیے سفارت کاری اور اپنی دفاعی و عسکری صلاحیتوں دونوں سے کام لے گا۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری اور دفاعی صلاحیتوں، دونوں راستوں کو ایرانی عوام کے حقوق کے حصول کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور لبنان کا ایک مشترکہ دشمن ہے ،جو دونوں ممالک کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔
فاطمہ مہاجرانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اور لبنان ایک دوسرے کے نمائندہ یا وکیل نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں سے کوئی ملک دوسرے کی جانب سے جنگ لڑتا ہے۔
چند دنوں میں پیش رفت متوقع
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں ،جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اس بات کا اشارہ دیا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
نیویارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ممکن ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ایران کے ساتھ معاہدے کے بارے میں میرے پاس کوئی واضح تصور ہو۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی بندرگاہوں پر اقتصادی دباؤ اور پابندیاں عسکری کارروائی کے مقابلے میں بہتر آپشن ہیں۔
انہوں نے سابق ایرانی جوہری معاہدے کو بھی اپنے الفاظ میں ایک بڑی ناکامی قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی حکومت کے حالیہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں ،جب ایرانی مسلح افواج نے پیر کے روز اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر جارحیت اور دشمنانہ اقدامات، بشمول جنوبی لبنان میں کارروائیاں، جاری رہیں تو پہلے سے زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ کشیدگی اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان پہلی بڑی براہِ راست فوجی جھڑپ تھی۔
ادھر امریکی صدر نے گزشتہ روز ایران اور اسرائیل دونوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فائرنگ کا تبادلہ بند کریں۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر لکھا: اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر فائرنگ بند کر دینی چاہیے۔چند منٹ بعد ایک اور پیغام میں انہوں نے کہا کہ امن کے لیے حتمی مذاکرات جاری ہیں، بشرطیکہ انہیں جہالت یا حماقت کی وجہ سے سبوتاژ نہ کیا جائے۔
یہ بیانات ان اطلاعات کے درمیان سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا تاکہ حالیہ جنگی کشیدگی کو روکا جا سکے۔
یہ بحران اتوار کی شام اس وقت بھڑکا جب ایران نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (الضاحیہ الجنوبیہ) پر حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب میزائل داغے، جس کے بعد اسرائیل نے ایران کے اندر مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔
اگرچہ اسرائیل اور ایران دونوں نے گزشتہ روز اس تصادم کے خاتمے کا اعلان کر دیا، تاہم اس کشیدگی نے ان سفارتی کوششوں کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں جو کئی ماہ سے جاری ہیں۔
ان کوششوں کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کا مستقل حل تلاش کرنا اور ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک نئے اتفاقِ رائے تک پہنچنا ہے۔