امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ پیر کے روز فون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس سے 'اے ایف پی' نے رپورٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے نیتن یاہو کو اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی فون کال تھی۔
یہ فون کال اس ماحول میں کی گئی ہے کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ایک پچھلی فون کال پر سخت جملوں کا ذکر زبان زد عام رہا۔ یہاں تک کہا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو انتہائی سخت سست بھی کہا۔
لیکن اب جبکہ ایران نے جنگ بندی کو دو ماہ مکمل ہونے کے بعد اسرائیل میں میزائل داغ کر ایک بار پھر اسرائیلوں کو بنکروں میں چھپنے پر مجبور کیا ہے تو صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو فون کیا ہے۔ ایران کے ان میزائل حملوں کے بعد خدشہ بڑھ گیا ہے کہ ایک بار پھر مکمل جنگ چھڑ سکتی ہے۔
پیر کے روز سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا اسرائیل اور ایران یہ حملے فوری طور پر روک دیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ذمہ دار نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اس فونک رابطے کی تصدیق کی ہے۔ مگر تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔