انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانا یقینی ہے: وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مستقبل قریب میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکانات پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ان کی کامیابی کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں۔
وینس نے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ واشنگٹن ایسی پوزیشن میں آ چکا ہے جہاں وہ تہران کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق مذاکراتی میز پر موجود معاملات کے حتمی حل کے لیے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر موجودہ رفتار سے بات چیت جاری رہی تو معاہدہ آئندہ ہفتے کے دوران بھی طے پا سکتا ہے، تاہم بعض پیچیدہ معاملات کو حل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہو سکتا ہے، جس کے باعث معاہدے میں چند ماہ کی تاخیر بھی ممکن ہے۔
ٹرمپ کی مذاکراتی صلاحیت پر اعتماد
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی مذاکراتی صلاحیت پر مکمل اعتماد ہے اور وہ ایسے معاہدے تک پہنچنے کی اہلیت رکھتے ہیں ،جو امریکی مفادات کا تحفظ کرے۔
وینس کے مطابق موجودہ امریکی انتظامیہ نے ایک جانب سیاسی اور اقتصادی دباؤ برقرار رکھا ہے، جبکہ دوسری جانب مذاکرات اور رابطوں کے دروازے بھی کھلے رکھے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب ایک قابلِ حصول اور حقیقت پسندانہ ہدف بن چکا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ آئندہ امریکی وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات سے قبل کسی نہ کسی نوعیت کا مفاہمتی معاہدہ طے پا جانا یقینی ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ رابطوں اور مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے مل رہے ہیں، اگرچہ خطے میں سکیورٹی اور فوجی کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
سفارت کاری اور دباؤ کے درمیان
امریکی انتظامیہ نے گزشتہ دنوں بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی، جبکہ ساتھ ہی ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں گی۔
دوسری جانب تہران نے ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیجے ہیں، جن میں اس نے سفارتی عمل جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے، اگرچہ آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
اسی تناظر میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے یا مزید دباؤ ڈالا گیا تو ایران کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
مذاکرات اور علاقائی و بین الاقوامی ثالثی کے تسلسل کے ساتھ اب یہ سوال اہم ہے کہ آیا آنے والے ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی عملی پیش رفت سامنے آئے گی جو برسوں سے جاری کشیدگی کو کم کر دے یا پھر اختلافی نکات مذاکرات کو مزید ادوار کی طرف دھکیل دیں گے، یہاں تک کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔