"خطرناک مواد سے متعلق واقعہ"... پینٹاگان کے کچھ حصوں میں لاک ڈاؤن
امریکی چینل "سی این این" کے مطابق عمارت کو بند کر دیا گیا اور کئی منزلوں سے افراد کو منتقل کیا گیا
امریکی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق آج جمعرات کو "خطرناک مواد سے متعلق ایک واقعے" کے سبب پینٹاگان کے کچھ حصوں میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔
ترجمان شان بارنل نے بتایا کہ ریاست ورجینیا کے آرلنگٹن کاؤنٹی میں واقع عمارت کے ایک حصے میں "ہوا کے معیار کے مسائل" کے پیش نظر "وہیں رہنے کا حکم" جاری کیا گیا، جس کے لیے "خطرے کی نوعیت کا تعین ہونے تک احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری تھا"۔
ترجمان نے مزید کہا کہ "وزارت متعارف شدہ حفاظتی پروٹوکولز پر عمل کر رہی ہے، جس میں متاثرہ علاقے کے اندر پناہ لینا شامل ہے۔ ریسکیو ٹیمیں موجود ہیں اور عمارت میں موجود افراد کی مدد کے لیے تیار ہیں۔"
کاؤنٹی کے فائر اینڈ ریسکیو حکام نے پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ فائر فائٹرز آج جمعرات کو وزارت دفاع "پینٹاگان" میں خطرناک مواد سے متعلق ایک واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
آرلنگٹن کاؤنٹی فائر ڈیپارٹمنٹ نے وضاحت کی کہ اس کے یونٹس، بشمول خطرناک مواد کی ٹیم، کو وزارت کی عمارت میں بھیجا گیا ہے جہاں وہ "خطرناک مواد کے واقعے" سے نمٹ رہے ہیں۔
سی این این نے نا معلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عمارت کو بند کر دیا گیا اور کئی منزلوں کے افراد کو وہاں سے نکالا گیا۔ نیٹ ورک کے مطابق چوتھے سے ساتویں کوریڈور کی دوسری سے پانچویں منزل تک بند کر دی گئی تھیں۔
بعد ازاں سی این این نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ خطرناک مواد کا وہ واقعہ جس کے باعث وزارت دفاع کو بند کرنا پڑا، ایک غلط الارم کا نتیجہ تھا۔
پینٹاگان کی پانچ پہلو والی عمارت جو 11 ستمبر 2001 کو القاعدہ کے حملوں کا نشانہ بنی تھی، دنیا کے سب سے بڑے انتظامی ہیڈکوارٹرز میں سے ایک ہے۔
-
یورپ میں پاسداران انقلاب کی "مذموم" سرگرمیاں... امریکہ اور 22 ممالک کی جانب سے مذمت
امریکہ اور 22 دیگر ملکوں نے ایرانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے یورپی ممالک میں ...
مشرق وسطی -
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پر اسلام آباد کی گہری تشویش
پاکستان نے فریقین سے تحمل اور جنگ بندی کی اپیل کا اعادہ کیا ہے: ترجمان دفتر خارجہ
پاكستان -
روس کی امریکہ اور ایران سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل
پیسکوف کے مطابق کشیدگی کا نیا دور پوری عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا پیش خیمہ ...
بين الاقوامى