امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پر اسلام آباد کی گہری تشویش
پاکستان نے فریقین سے تحمل اور جنگ بندی کی اپیل کا اعادہ کیا ہے: ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدوں کا احترام کریں اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ خطے کے تمام دیرینہ مسائل کا حل صرف بات چیت اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، پاکستان ہمیشہ سے پرامن حل اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کرتا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اس سلسلے میں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہیں تاکہ امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے، پاکستان کی کوشش ہے کہ کسی بھی نئی کشیدگی سے خطے میں انسانی جانوں کے نقصان اور عدم استحکام سے بچا جا سکے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف کے مطابق تمام تنازعات کے پرامن حل اور مذاکراتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا، اور خطے میں استحکام کے لیے تعمیری سفارت کاری میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے 28 مئی کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات کی اور پھر بعد میں انھوں نے ایران کے عباس عراقچی سمیت خطے کے دیگر وزرائے خارجہ کے ساتھ رابطہ کیا اور صورتحال پر بات چیت کی۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ڈپلومیسی کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل صرف امن اور مذاکرات کے راستے میں ہی ممکن ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں اعلیٰ سطح کے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق وزیر داخلہ حال ہی میں تہران کے دورے پر تھے جہاں انھوں نے اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
طاہر اندرابی کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ جنگ بندی، جو امریکی کوششوں سے ممکن ہوئی، ایک مثبت پیشرفت ہے اور پاکستان امید رکھتا ہے کہ یہ عمل جاری رہے گا، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے۔
ترجمان نے کہا کہ لبنان کے آرمی چیف کی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات بھی ہوئی، جس کی تفصیلات آئی ایس پی آر پہلے ہی جاری کر چکا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے بھارتی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ان بیانات کو مسترد کرتا ہے۔
ان کے مطابق بھارت ایسے بیانات بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے دیتا ہے، جبکہ پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر کے امور کو آئین اور قانون کے مطابق حل کر رہا ہے۔
بھارتی وزیر کی جانب سے پاکستان کو پانی کی فراہمی روکنے کے بیان پر بھی دفتر خارجہ نے سخت ردعمل دیا۔
ترجمان نے کہا کہ ایسے اقدامات جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور اگر صورتحال خراب ہوئی تو اس کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
صومالیہ میں پھنسے پاکستانی
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صومالی قزاقوں کے پاس موجود پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ترجمان کے مطابق تقریباً 50 دن گزرنے کے باوجود انھیں رہائی نہیں مل سکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان سومالی حکام اور مقامی قبائل کے ساتھ رابطے میں ہے، جبکہ اسحاق ڈار نے اس معاملے پر سومالی وزیر خارجہ سے بھی بات کی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔