امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فٹ بال ورلڈ کپ میں امریکی ٹیم کا افتتاحی میچ نہیں دیکھیں گے
مارکو روبیو اس میچ میں شرکت کریں گے جو اس عالمی کپ کا امریکی سرزمین پر کھیلا جانے والا پہلا مقابلہ ہے
امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیراگوئے کے خلاف فٹ بال ورلڈ کپ میں امریکی قومی ٹیم کا افتتاحی میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
امریکی میڈیا بشمول نیوز ویب سائٹ "پولیٹیکو" اور اسپورٹس میگزین "دی اٹھیلیٹک" نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر کل بروز جمعہ لاس اینجلس میں شیڈول اس میچ میں شرکت نہیں کریں گے۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس یا وزارت خارجہ نے ابھی تک ان رپورٹس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ یا ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔
اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے اعلان کیا تھا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اس میچ میں شرکت کریں گے جو موجودہ عالمی کپ کا امریکی سرزمین پر کھیلا جانے والا پہلا باضابطہ مقابلہ ہے۔
مارکو روبیو اس میچ کے موقع پر ایک وفد کی قیادت کریں گے جس میں وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر مارکوائن مولن بھی شامل ہیں۔
اس میچ کے دوران وزیر خارجہ مارکو روبیو پیراگوئے کے صدر سانتیاگو پینیا سے ایک اہم ملاقات بھی کریں گے جس میں علاقائی سکیورٹی، باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی جیسے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ مل کر فٹ بال کی تاریخ کے سب سے بڑے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کی مشترکہ میزبانی کر رہا ہے۔ فٹ بال کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور فائنل میچ تک مجموعی طور پر 104 مقابلے کھیلے جائیں گے۔
امریکی قومی ٹیم گروپ مرحلے کے اپنے تین میچوں میں سے دو میچ لاس اینجلس کے جنوب میں واقع شہر انگلووڈ میں لاس اینجلس ریمز اور لاس اینجلس چارجرز کے مشترکہ اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔ امریکی ٹیم پیراگوئے کے علاوہ آسٹریلیا اور ترکیہ کی ٹیموں کا مقابلہ کرے گی۔
فٹ بال ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز آج جمعرات کی شام مکسیکو سٹی کے مشہور ازٹیکا اسٹیڈیم میں میزبان ملک میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جانے والے پہلے افتتاحی میچ سے ہو رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب غاصب صہیونی دشمن اور امریکہ کی سرپرستی میں دنیا کے کئی حصوں میں مظلوموں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے اور فلسطینیوں کا نصب العین دنیا کی توجہ کا طالب ہے، یہ کھیل عالمی برادری کو اکٹھا کرنے کی ایک کوشش ہے۔