ایران نے ہماری شرائط قبول کر لیں، آج رات اس پر بمباری نہیں کریں گے: ٹرمپ
دستخط کی تاریخ اور جگہ کا اعلان جلد کیا جائے گا، معاہدے کی تکمیل تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی: امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران پر حملے کرنے سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کردیا اور اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کے امکان کا اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ پر لکھا کہ اس حقیقت کی بنیاد پر کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ بات چیت کو ایرانی قیادت کے اعلیٰ ترین درجے تک پہنچایا گیا اور اس کی منظوری دی گئی، اس لیے میں نے آج شام ایران پر حملے اور بمباری کی کارروائیاں منسوخ کر دی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں نے اصولی طور پر اور انتہائی تفصیل کے ساتھ بات چیت اور حتمی نکات پر اتفاق کر لیا ہے، دستخط کی تاریخ اور جگہ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی تکمیل تک بحری ناکہ بندی مکمل طاقت اور اثر کے ساتھ برقرار رہے گی۔ امریکی صدر نے تصدیق کی کہ حتمی بات چیت اور نکات پر امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر ممالک نے اتفاق کیا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ آج رات ایران پر انتہائی شدید بمباری کرے گا اور جلد ہی اس کی تیل اور گیس کی منڈیوں اور بنیادی ڈھانچے پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔
ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ آج رات ایران پر ایک انتہائی شدید وار کرے گا، ایران نے اپنا بحری بیڑا، فضائیہ، راڈار، فضائی دفاع اور اپنی دفاع کی تمام دیگر اقسام کے ساتھ ساتھ اپنی زیادہ تر جارحانہ صلاحیتیں بھی کھو دی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اور کچھ ہی عرصے بعد ہم جزیرہ خارک اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کے دیگر مقامات پر قبضہ کر لیں گے اور ایرانی تیل اور گیس کی منڈیوں پر ایسے ہی مکمل کنٹرول حاصل کر لیں گے جیسا کہ ہم نے وینزویلا کے ساتھ کیا تھا۔ یہ عمل وینزویلا اور امریکہ دونوں کے لیے شاندار نتائج لایا ہے۔
واضح رہے واشنگٹن نے عملی طور پر وینزویلا کے تیل کے شعبے پر ایک فوجی آپریشن کے بعد کنٹرول حاصل کر لیا تھا جس کے دوران انہوں نے جنوری میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے اپنی سرزمین پر منتقل کر دیا تھا۔ ایران کے پاس تیل اور گیس کے دنیا کے نمایاں ترین ذخائر ہیں اور اس کی پیداوار اس کے جنوبی ساحلوں کے سامنے خلیج میں واقع جزیرہ خارک میں مرکوز ہے۔ واشنگٹن برسوں سے ایرانی تیل پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے تاہم تہران ہمیشہ پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور اس نے کئی منڈیوں، جن میں سب سے نمایاں چین ہے، کو برآمدات جاری رکھی ہوئی ہیں۔
ایرانی ختم ہو چکے ہیں
"فاکس نیوز" کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اب بھی ایران سے بات چیت کر رہا ہے لیکن وہ ملک میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کے مرکز، جزیرہ خارک پر کنٹرول کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکی حملوں کو تیز کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا ایرانی ختم ہو چکے ہیں اور اگر میں چاہوں گا تو میں زمین پر فوجی تعینات کر دوں گا۔ ایران پر شدید رات کی بمباری کے اپنے خطرے کے باوجود ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران میں پلوں اور بجلی کے گھروں پر بمباری کو ترجیح نہیں دیتے اور وہ نہیں چاہتے کہ ایرانی عوام مشکلات کا شکار ہوں۔
امریکی حملے اور ایرانی جواب
امریکی مرکزی کمان "سینٹ کام" نے اس سے قبل آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی "اپاچی" ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد ایران کے خلاف حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے تھے۔