سعودی بحریہ نے السراوات فیز ٹو میں ہسپانوی شپ یارڈ سے پہلا جنگی جہاز حاصل کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

رائل سعودی نیول فورسز نے جمعہ کے روز السراوات پروگرام کے دوسرے مرحلے کے پہلے جہاز ایچ ایم ایس المدینہ کو سان فرنینڈو، سپین میں ہسپانوی جہاز ساز ناوانتیا کے شپ یارڈ سے روانہ کر دیا جو مملکت کی بحری جدید کاری کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

فلوٹ آؤٹ جہاز کے بیرونی خول کی تعمیر اور اسے جوڑنے کا کام مکمل ہونے کے بعد ہوتا ہے اور تعمیر کے اگلے مرحلے کے آغاز کا اشارہ دیتا ہے۔ اس میں بندرگاہ کی قبولیت کی جانچ اور سمندری آزمائشوں سے گذرنے سے پہلے جہاز کے نظام کی تنصیب اور انضمام شامل ہے۔

ایچ ایم ایس المدینہ پروگرام کے تحت حاصل کردہ دیگر دو جہاز ایچ ایم ایس نیوم اور ایچ ایم ایس العلاء بھی زیرِ تعمیر ہیں۔

وزارتِ دفاع نے سپین کے ناونتیا کے ساتھ دسمبر 2024 میں تین کارویٹس کے حصول اور فراہمی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ السراوت پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیابی کی بنیاد پر رائل سعودی نیول فورسز کو پانچ جنگی جہاز فراہم کیے گئے۔

فلوٹ آؤٹ تقریب میں ریئر ایڈمرل صالح الخثعمی، آر ایس این ایف کے ڈائریکٹر بحری سٹاف، چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد الغریبی اور ناونتیا کے چیئرمین ریکارڈو ڈومنگیز شامل تھے۔

الغریبی نے کہا، یہ منصوبہ شاہ سلمان، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی طرف سے مملکت کی مسلح بالخصوص بحری افواج کو فراہم کردہ مسلسل حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس حمایت سے دفاعی صلاحیتوں کو تقویت ملی اور مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے مزید کہا، السراوات پروگرام کے دوسرے مرحلے پر کام طے شدہ وقت کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے جس میں دوسرے اور تیسرے جہاز کی تعمیر مملکت کے اندر مکمل کرنا شامل ہے۔

انہوں نے حازم نیول کمبیٹ مینجمنٹ سسٹم تیار کرنے اور اسے بحری جہازوں کے ہتھیاروں کے نظام سے مربوط کرنے میں سعودی عرب کی فوجی صنعتوں کے کردار پر روشنی ڈالی اور اس کوشش کو دفاعی صنعتوں کو مقامی بنانے اور سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے وسیع مقاصد کا حصہ قرار دیا۔

السراوات پروگرام کے دوسرے مرحلے کا مقصد رائل سعودی نیول فورسز کی کثیر المقاصد صلاحیتوں کو بہتر بنانا جبکہ مملکت کے دفاعی شعبے میں مقامی مواد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں اضافہ کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں