بنجمن نیتن یاھو کی اسرائیلی فوج کو لبنان میں آپریشن روکنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جنوبی اور مشرقی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں شدت کے بعد اسرائیلی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے فوج کو لبنان میں اپنی کارروائیاں روکنے کی ہدایت کر دی ہے۔

تاہم ان ذرائع نے نشاندہی کی کہ ان ہدایات میں جنوب میں اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ "سکیورٹی زونز" سے انخلا شامل نہیں ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کا یہ فیصلہ چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر کی سربراہی میں ہونے والے سکیورٹی صورتحال کے جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان کے متعدد قصبوں اور ملک کے مشرقی حصے میں بقاع پر درجنوں فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کل ہونے والے نئے سیز فائر معاہدے کے باوجود 16 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کشیدگی کا ذمہ دار حزب اللہ کو قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے رات کے وقت اسرائیلی افواج پر تقریباً 50 راکٹ اور ڈرون داغے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیلی فریق کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کا جواب دیا ہے۔

چند گھنٹوں میں 83 ہلاکتیں

لبنان کی وزارت صحت نے آج ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ کل ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 83 ہو گئی ہے جبکہ 141 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی اور مشرقی لبنان سے ہے۔ وزارت نے اپنی گزشتہ رپورٹ میں 47 افراد کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ 2 مارچ سنہ 2026ء کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4057 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 135 طبی امدادی کارکن اور ہیلتھ سیکٹر کے اہلکار شامل ہیں جبکہ 12 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایران کا ردعمل اور آبنائے ہرمز کی بندش

ایرانی فریق کی جانب سے، اسرائیل کی اس کشیدگی کے جواب میں پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے بدھ کی رات ایران اور امریکہ کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت میں شامل سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ بند کر دیا ہے۔

اسی دوران امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے دوبارہ بند ہونے کے ایرانی اعلان کے بعد اپنی "چوکس" رہنے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج ایران کے ساتھ معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور اسے مکمل طور پر فعال رکھنے کے لیے اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور چوکس ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے محفوظ گزرگاہ بدستور دستیاب ہے اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

دریں اثنا ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اس کا وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے اسرائیلی خلاف ورزیوں سے خبردار کیا ہے۔

یاد رہے کہ تہران نے کل بھی اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں پر خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عمل متاثر ہوگا اور مفاہمت کی یادداشت کمزور پڑے گی۔

دریں اثنا امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کے کچھ ایسے وزرا پر تنقید کی ہے جنہوں نے امریکی ایرانی مفاہمت کی یادداشت پر حملہ کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجمن نیتن یاھو کو "عقل و دانش" کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں