سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن اسٹاک میں آج اتوار کی دوپہر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا باضابطہ اجلاس شروع ہو گیا ہے جس میں پاکستان اور قطر ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ قطر نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین حتمی معاہدے کے لیے فنی اور تکنیکی گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں اور امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات ایک دیرپا اور جامع معاہدے پر منتج ہوں گے۔
قبيل انطلاق المفاوضات في سويسرا.. رئيس وزراء باكستان شهباز شريف يلتقي نائب الرئيس الأميركي جي دي فانس بحضور المبعوث الأميركي ستيف ويتكوف وجاريد كوشنر وقائد الجيش الباكستاني عاصم منير pic.twitter.com/6S29KiRwAK
— العربية (@AlArabiya) June 21, 2026
مذاکرات کے آغاز سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی جس میں امریکی ایلچی اسٹیو بھی موجود تھے۔
سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت کی بنیاد پر مذاکرات کا نیا دور ہو رہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے تمام وفود کی بورگن اسٹاک آمد کی تصدیق کر دی ہے، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد، محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اور ثالث ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔
صور لتوجه وفد إيران برئاسة قاليباف إلى المبنى حيث تعقد مفاوضات بورغنشتوك pic.twitter.com/WRIgpJEHo1
— العربية (@AlArabiya) June 21, 2026
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بورگن اسٹاک اجلاس مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے ایک دن جاری رہے گا۔ اس دوران ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان پاکستان اور قطر کے نمائندوں کی موجودگی میں ملاقاتیں ہوں گی، جبکہ ثالث ممالک کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات بھی کیے جائیں گے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی حمایت جاری رکھے گی، اور وزیر اعظم پاکستان امریکہ، ایران، قطر اور سوئٹزرلینڈ کے وفود سے دو طرفہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
موفد العربية سلام كيالي: لقاء مباشر مرتقب بين فانس وقاليباف في مفاوضات سويسرا.. واجتماعات ثنائية بين الوفدين الأميركي والإيراني لتقريب وجهات النظر بشأن الملف النووي ووقف إطلاق النار في لبنان pic.twitter.com/hyUvtvlvEV
— العربية (@AlArabiya) June 21, 2026
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری نے کہا ہے کہ قطر ایک ثالث ملک کی حیثیت سے پاکستان اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا تاکہ مذاکرات کے اہداف حاصل کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری تنازعات کے حل کا بہترین راستہ ہے۔
رئيس وزراء باكستان يصل إلى مقر المفاوضات بين أميركا وإيران في بورغنشتوك pic.twitter.com/vogRFS2zb1
— العربية (@AlArabiya) June 21, 2026
یاد رہے کہ مذاکرات جمعہ کو شروع ہونا تھے لیکن اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملوں میں شدت اور حزب اللہ کے ہاتھوں چار فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد انہیں آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اس وقت واشنگٹن نے وہاں جنگ بندی کی تجدید پر اتفاق کر لیا تھا جو ایران کے ساتھ اس کے ابتدائی معاہدے کی ایک شرط ہے، تاہم ہفتے کے روز اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئیں اور دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
رئيس وزراء باكستان وقائد الجيش يصلان إلى سويسرا للمشاركة في المحادثات المرتقبة بين الولايات المتحدة وإيران pic.twitter.com/W6KT0nhxdb
— العربية (@AlArabiya) June 21, 2026
ایرانی مسلح افواج کے مرکزی آپریشن روم، خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا، جس کی وجہ امریکہ کی طرف سے وعدہ خلافی اور جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی قرار دی گئی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کی رات مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ ختم کرنا شامل تھا۔
المختص بالأمن القومي والاستراتيجي يعرب صخر: إيران تدخلت لوقف إطلاق النار في لبنان بعد استشعارها خطرا حقيقيا يهدد مواقع حزب الله الاستراتيجية بمرتفعات علي الطاهر والتلال المجاورة التي تضم أنفاقا ومخازن ومستودعات أسلحة.. والحرس الثوري هو من يقود المعارك ميدانيا في الجنوب pic.twitter.com/azosxJ5qfw
— العربية (@AlArabiya) June 21, 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے محفوظ گزرگاہ بدستور دستیاب ہے اور امریکی افواج چوکس ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بعد ازاں خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کار معاہدہ کرنے میں ناکام رہے تو واشنگٹن آبنائے ہرمز میں اپنے خصوصی راہداری ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکس تب تک نہیں ہوں گے جب تک امریکہ انہیں اپنے فائدے کے لیے نافذ نہ کرے۔
ایرانی سرکاری میڈیا اور سوئس وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی شامل ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ وفد مفاہمت کے تحت دوسرے فریق کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرے گا۔
المختص بالأمن القومي والاستراتيجي يعرب صخر: إيران تدخلت لوقف إطلاق النار في لبنان بعد استشعارها خطرا حقيقيا يهدد مواقع حزب الله الاستراتيجية بمرتفعات علي الطاهر والتلال المجاورة التي تضم أنفاقا ومخازن ومستودعات أسلحة.. والحرس الثوري هو من يقود المعارك ميدانيا في الجنوب pic.twitter.com/azosxJ5qfw
— العربية (@AlArabiya) June 21, 2026
پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ بورگن اسٹاک میں تکنیکی سطح پر بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا جس میں پاکستانی اور قطری ثالث امریکی اور ایرانی وفود کے ساتھ بحث میں حصہ لیں گے۔ توقع ہے کہ یہ مذاکرات دو ماہ تک جاری رہیں گے جس میں ابتدائی معاہدے کے حل طلب معاملات، بالخصوص ایرانی جوہری پروگرام پر غور کیا جائے گا۔