سوئٹرزلینڈ بورگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا آغاز

قطر، پاکستان اور امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی اور تنازعات کے حل پر بات چیت جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن اسٹاک میں آج اتوار کی دوپہر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا باضابطہ اجلاس شروع ہو گیا ہے جس میں پاکستان اور قطر ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ قطر نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین حتمی معاہدے کے لیے فنی اور تکنیکی گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں اور امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات ایک دیرپا اور جامع معاہدے پر منتج ہوں گے۔



مذاکرات کے آغاز سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی جس میں امریکی ایلچی اسٹیو بھی موجود تھے۔

سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت کی بنیاد پر مذاکرات کا نیا دور ہو رہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے تمام وفود کی بورگن اسٹاک آمد کی تصدیق کر دی ہے، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد، محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اور ثالث ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔



ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بورگن اسٹاک اجلاس مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے ایک دن جاری رہے گا۔ اس دوران ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان پاکستان اور قطر کے نمائندوں کی موجودگی میں ملاقاتیں ہوں گی، جبکہ ثالث ممالک کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات بھی کیے جائیں گے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی حمایت جاری رکھے گی، اور وزیر اعظم پاکستان امریکہ، ایران، قطر اور سوئٹزرلینڈ کے وفود سے دو طرفہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔



قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری نے کہا ہے کہ قطر ایک ثالث ملک کی حیثیت سے پاکستان اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا تاکہ مذاکرات کے اہداف حاصل کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری تنازعات کے حل کا بہترین راستہ ہے۔



یاد رہے کہ مذاکرات جمعہ کو شروع ہونا تھے لیکن اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملوں میں شدت اور حزب اللہ کے ہاتھوں چار فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد انہیں آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اس وقت واشنگٹن نے وہاں جنگ بندی کی تجدید پر اتفاق کر لیا تھا جو ایران کے ساتھ اس کے ابتدائی معاہدے کی ایک شرط ہے، تاہم ہفتے کے روز اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئیں اور دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔



ایرانی مسلح افواج کے مرکزی آپریشن روم، خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا، جس کی وجہ امریکہ کی طرف سے وعدہ خلافی اور جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی قرار دی گئی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کی رات مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ ختم کرنا شامل تھا۔



امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے محفوظ گزرگاہ بدستور دستیاب ہے اور امریکی افواج چوکس ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بعد ازاں خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کار معاہدہ کرنے میں ناکام رہے تو واشنگٹن آبنائے ہرمز میں اپنے خصوصی راہداری ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکس تب تک نہیں ہوں گے جب تک امریکہ انہیں اپنے فائدے کے لیے نافذ نہ کرے۔

ایرانی سرکاری میڈیا اور سوئس وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی شامل ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ وفد مفاہمت کے تحت دوسرے فریق کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرے گا۔



پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ بورگن اسٹاک میں تکنیکی سطح پر بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا جس میں پاکستانی اور قطری ثالث امریکی اور ایرانی وفود کے ساتھ بحث میں حصہ لیں گے۔ توقع ہے کہ یہ مذاکرات دو ماہ تک جاری رہیں گے جس میں ابتدائی معاہدے کے حل طلب معاملات، بالخصوص ایرانی جوہری پروگرام پر غور کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں