وینس ایران کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اتوار کی صبح سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے، جہاں وہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت کریں گے جو ممکنہ طور پر کئی روز تک جاری رہیں گے۔

ان کے ترجمان کے مطابق نائب صدر اور ان کی اہلیہ سوئس ایئر بیس آئمن پر مقامی وقت کے مطابق صبح59: 5پر پہنچے (59:3جی ایم ٹی)۔وینس واشنگٹن سے سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہوئے تھے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع تکنیکی مذاکرات میں حصہ لے سکیں۔

ان کے ترجمان نے تصدیق کی کہ وہ اب مذاکراتی مقام کی طرف جا رہے ہیں، جبکہ العربیہ اور الحدث کی نمائندہ کے مطابق وہ اس وقت مذاکراتی مرکز کے قریب موجود ہیں۔

یہ دورہ اس وقت ہوا ہے، جب وینس نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ بات چیت ''اچھی سمت میں جا رہی ہے'' اور امریکی انتظامیہ اس سفارتی عمل کو مکمل موقع دینا چاہتی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر معاملات پر کوئی سمجھوتہ ممکن بنایا جا سکے۔

اس سے قبل انہوں نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں اور تکنیکی مذاکرات میں شریک ہیں، جبکہ کسی بھی وقت ایرانی وفد کے ساتھ براہِ راست ملاقات کا امکان موجود ہے۔

پیش رفت کی امید ظاہر کی گئی ہے

سوئٹزرلینڈ روانگی سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات میں پیش رفت کے حوالے سے امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ ممکنہ طور پر ایک سے دو دن تک محدود ہو سکتا ہے اور اس کا انحصار مذاکرات کی پیش رفت اور تکنیکی اجلاسوں کے نتائج پر ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن دو متوازی محاذوں پر پیش رفت چاہتا ہے۔ پہلا ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا لبنان میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور حالیہ دنوں میں طے پانے والے فہم و تفاہیم کو برقرار رکھنا ہے۔

وینس نے زور دیا کہ امریکی انتظامیہ لبنان میں کسی بھی نئے تصادم کو روکنے کے لیے کوشش کرے گی اور یہ بھی کہا کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایسے نئے حملے نہ ہوں جو جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔

ساتھ ہی انہوں نے حزب اللہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی میں کمی لائے اور اسرائیل کے خلاف حملے بند کرے۔ ان کے مطابق سیاسی عمل کی کامیابی کے لیے تمام فریقوں کا تنازع میں کمی لانا اور فوجی تصادم سے گریز کرنا ضروری ہے۔

تکنیکی مذاکرات کا آغاز

سوئٹزرلینڈ کے شہر بورغن اشٹوک میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد پہلی مرتبہ تکنیکی مذاکرات کا دور شروع ہو گیا ہے۔

اس معاہدے نے کشیدگی میں کمی اور 60 روزہ مکالمے کے ایک ابتدائی فریم ورک کی بنیاد رکھی ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور سکیورٹی معاملات پر بات چیت شامل ہے۔

ایرانی وفد میں اہم شخصیات شامل ہیں، جن میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، مرکزی بینک، وزارت خارجہ اور وزارتِ تیل کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

مذاکرات میں پاکستان اور قطر بھی ثالث کے طور پر شریک ہیں، جنہوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور رابطوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں