بورگن شٹوگ ریزورٹ میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والے امریکا،ایران مذاکرات کے حوالے سے پائی جانے والی ابتدائی مثبت فضا کے باوجود گزشتہ چند گھنٹوں میں بعض تضادات سامنے آئے ہیں۔
یہ اختلافات ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیانات میں دیکھے گئے ہیں، جو امریکی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔
.@VP: "Fundamentally, that money is not going to be unfrozen unless we continue to see progress, and that will obviously be a big part of the negotiation in the days to come." https://t.co/ajXECmTXb5 pic.twitter.com/huXYgHEsPk
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) June 22, 2026
وینس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے ایران کے بعض منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت سے مشروط ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکی کسانوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا، کیونکہ ان فنڈز کے ذریعے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری ممکن ہوگی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بیان دیا کہ ایران ان جاری شدہ رقوم سے امریکی مصنوعات خریدے گا۔تاہم ایرانی کی جانب سے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
محمد باقر قالیباف اور مرکزی بینک آف ایران کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے واضح کیا ہے کہ کسی معاہدے کے تحت ایران پر یہ شرط عائد نہیں کی گئی کہ وہ ان رقوم سے امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا پابند ہوگا۔
ہمتی نے ٹرمپ اور ان کے نائب کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے جاری کی جانے والی پہلی قسط جو 6 ارب ڈالر ہے، 2023 میں امریکا،ایران قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت استعمال ہوگی۔ اس معاہدے کے مطابق ان رقوم کو صرف بنیادی اشیاء اور ادویات کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران صرف اسی صورت میں امریکی زرعی مصنوعات خریدے گا جب ان کی قیمت اور معیار متبادل ذرائع سے بہتر ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی وزارتِ زراعت ماضی میں بھی اپنی ضروریات کے لیے بڑی امریکی اور یورپی کمپنیوں پر انحصار کرتی رہی ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ منجمد اثاثوں کی باقی رقوم بشمول دوسری قسط کے 6 ارب ڈالر اور دیگر تمام رکی ہوئی رقوم صرف بنیادی اشیاء تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ ان کا استعمال غیر پابندی والے دیگر شعبوں کی مصنوعات کی خریداری کے لیے بھی کیا جا سکے گا۔
ایرانی وفد کے مبینہ انخلا سے متعلق دوسرا بڑا اختلاف
وینس نے کہا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والی 18 گھنٹے طویل بات چیت کے دوران ایرانی وفد کے مذاکرات سے انخلا کی تمام خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ ان کے مطابق ایسا کوئی باضابطہ واقعہ پیش نہیں آیا۔
اس کے برعکس محمد باقر قالیباف نے بعد میں میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ایرانی وفد نے مذاکرات کے ایک مرحلے سے واقعی انخلا کیا تھا، جب بات چیت اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکی تھی۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا، جب صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور دھمکی آمیز لہجہ سامنے آیا۔
قالیباف نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے جے ڈی وینس کو یاد دلایا کہ مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق میں دونوں ممالک کے درمیان دھمکی آمیز زبان کے تبادلے سے گریز کی شرط شامل ہے، جیسا کہ ایرانی ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا ہے۔
Iran’s chief negotiator confirms that he and his delegation did walk out of the talks
— Robert A. Pape (@ProfessorPape) June 23, 2026
After only 80 minutes
Because of Trump’s threats
And refused to meet with Vance again
Hardly a “good foundation” pic.twitter.com/iq2bpveh8Y
ایٹمی معائنہ کار
وینس نے کہا کہ تہران نے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایک حتمی اور کامیاب معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے۔
تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران جوہری امور پر کوئی تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی ایران نے اس حوالے سے کوئی نئی ذمہ داریاں قبول کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سابقہ ذمہ داریوں پر عمل درآمد کو صرف اس وقت جاری رکھے گا، جب دوسری جانب سے جنگ کے خاتمے، تیل کی برآمدات کی بحالی اور منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے وعدے پورے کیے جائیں گے۔
یہ بھی یاد رہے کہ ایرانی وفد جس کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے، گزشتہ روز 18 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد الپس کے ریزورٹ سے روانہ ہو گیا تھا، جیسا کہ ایرانی سرکاری خبر ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا۔
دوسری جانب قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے پیر کی صبح ایک تصویر شیئر کی، جس میں وہ جے ڈی وینس کے ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں جبکہ پس منظر میں امریکی نمائندہ جارڈ کشنر موجود تھے۔ تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ لوسیرن (سوئٹزرلینڈ) سے براہِ راست، کام جاری ہے۔
وفود کی روانگی کے باوجود سوئس وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ حالات اس حد تک سازگار ہیں کہ مذاکرات کو فوری طور پر فنی سطح پر دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
اسی دوران پاکستان اور قطر کی مشترکہ حکومتوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا نے لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے میکانزم پر اتفاق کیا ہے۔
ان کے مطابق دونوں فریقوں نے ''حوصلہ افزا پیش رفت'' حاصل کی ہے، اگرچہ یہ وہی نکات ہیں جن پر خطے میں تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔