لبنان کے حوالے سے ایران کے ساتھ ہمارے رابطوں کا مقصد حزب اللہ پر دباؤ ڈالنا ہے : وینس
لبنان کی ایک مسیحی سیاسی جماعت 'لبنانی فورسز' پارٹی کے سربراہ سمیر جعجع کی جانب سے بھیجے گئے ایک خط کے جواب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ لبنان کے حوالے سے ایران کے ساتھ امریکہ کے رابطوں کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ حزب اللہ پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے تہران کے ساتھ ہونے والے رابطوں کا مقصد اسے لبنان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے یا اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا کوئی کردار دینا نہیں ہے۔
وینس نے منگل کے روز واضح کیا کہ واشنگٹن لبنانی صدر جوزف عون اور لبنانی حکومت کو ہی لبنان میں واحد قانونی اتھارٹی سمجھتا ہے... اور اس کا ارادہ لبنانی ریاست کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ہے تاکہ اسے اپنی خود مختاری کے تحفظ اور اپنی قانونی حکمرانی کو مستحکم کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ یہ بات 'لبنانی فورسز' پارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتائی گئی۔
اس کے علاوہ وینس نے لبنانی معاملے سے متعلقہ امریکی حکام کے ساتھ اپنی مسلسل نگرانی کی طرف اشارہ کیا اور لبنان میں حالات کی پیش رفت میں امریکی انتظامیہ کی دل چسپی اور اس کی خود مختاری و قانونی اداروں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اپنے خط میں جعجع نے خیال ظاہر کیا کہ اس نازک مرحلے پر امریکہ لبنان کے لیے جو سب سے بڑی خدمات انجام دے سکتا ہے، وہ ریاست اور اس کے قانونی اداروں کے واحد قومی مرجع کے طور پر حمایت کرنا، لبنانی معاملے پر کسی بھی مذاکرات یا نقطہ نظر کو صرف لبنانی ریاست تک محدود رکھنا اور ایران کو مکمل طور پر دور کرنا ہے... تاکہ لبنانیوں کو اپنے قومی فیصلے حتمی طور پر بحال کرنے میں مدد مل سکے اور ان کے اندرونی معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کے تسلسل کو روکا جا سکے۔
تلقى رئيس حزب القوات اللبنانية الدكتور سمير جعجع رداً من نائب رئيس الولايات المتحدة الأميركية جي دي فانس @JDVance على الرسالة التي كان قد وجهها إليه بشأن الأوضاع في لبنان والتحديات المرتبطة بالسيادة اللبنانية ودور الدولة، إضافة إلى الواقع الذي يعيشه المسيحيون في لبنان.
— Samir Geagea (@DrSamirGeagea) June 23, 2026
وأكد فانس… pic.twitter.com/xez1ZwRbN6
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ لبنانی ریاست کو اپنی تمام سرزمین پر مکمل حکمرانی قائم کرنے، اسلحہ کو صرف قانونی اداروں کے ہاتھوں میں محدود کرنے اور حزب اللہ کے فوجی و سکیورٹی وجود کو ختم کرنے میں مدد دینا تمام لبنانیوں کے لیے سب سے بڑی خدمت ہے، کیونکہ یہ ریاست کی تعمیر کی راہ ہموار کرتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے پچھلے مراحل کے دوران جنگ بندی کو اپنے مطالبات کا حصہ بنائے رکھا تھا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان 18 جون کو دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت میں 14 شقوں میں سے ایک شق میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کا ذکر تھا۔
دوسری جانب اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں قابض علاقوں سے انخلاء نہیں کرے گا اور اپنے فوجیوں یا شمالی بستیوں کے لیے خطرہ بننے والے "خطرات" کے جواب میں کارروائی جاری رکھے گا۔
لبنان اب تک واشنگٹن میں امریکی سرپرستی میں اسرائیلی فریق کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے کئی سیشن منعقد کر چکا ہے، تاکہ ملک میں جنگ کو حتمی طور پر روکنے کے لیے کسی حل تک پہنچا جا سکے۔
-
لبنان پر اسرائیلی حملوں سے امریکہ ایران مذاکرات 'ڈی ریل' ہونے کا خطرہ تھا : اسحاق ڈار
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت پر ...
مشرق وسطی -
لبنان : تازہ اسرائیلی جنگ، عمارات کو 1 ارب 38 کروڑ ڈالر مالیت کا نقصان
اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے کہا ہے لبنان میں تازہ اسرائیلی جنگ کے دوران بمباری کر ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کی جنوبی لبنان میں فائرنگ، حزب اللہ کی سخت وارننگ
کچھ روز قبل اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان ...
بين الاقوامى