کچھ روز قبل اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان کے علاقے النبطیہ الفوقا میں اسرائیلی افواج کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
لبنانی سول ڈیفنس نے آج منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ النبطیہ الفوقا کے علاقے میں واقع الدیر محلے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے اہلکاروں نے ان متعدد شہریوں پر اپنی مشین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی جو حی الدیر میں راستہ کھولنے کے لیے کام کرنے والے ایک بلڈوزر کے قریب موجود تھے۔
خطرہ ختم کر دیا
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے اہلکاروں نے ان مسلح افراد پر حملہ کیا جنہیں علی الطاہر کی پہاڑیوں کے سکیورٹی زون میں کام کرنے والی اسرائیلی فوج کے قریب دیکھا گیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان افراد کو دیکھتے ہی فائرنگ کا دائرہ تیزی سے بند کرنے کے فریم ورک کے تحت فوج نے خطرے کو ختم کرنے کے مقصد سے ان پر حملہ کیا۔
اس حوالے سے اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں زور دیا کہ فوج فوری خطرات کو ختم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گی اور حزب اللہ کو اسرائیل کے شہریوں یا اس کی افواج کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔
🔴لإزالة تهديد فوري: جيش الدفاع هاجم مخربين مسلحين تم رصدهم بالقرب من قوات جيش الدفاع العاملة في المنطقة الأمنية جنوب لبنان
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) June 23, 2026
🔸رصد جيش الدفاع قبل قليل خلية من المخربين المسلحين كانت تعمل بالقرب من قوات جيش الدفاع العاملة في المنطقة الأمنية في تلة علي الطاهر.
🔸حيث وفور رصد… pic.twitter.com/9cIiudsmaR
حزب اللہ کی وارننگ
اس کے برعکس حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کی ان خلاف ورزیوں پر سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے ان شہریوں پر فائرنگ کی جو اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ملبے تلے دب جانے والے جاں بحق افراد کے جسدِ خاکی تلاش کرنے کے لیے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔
حزب اللہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ اب تک جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پابند ہے۔
یہ واقعہ گذشتہ دنوں کے دوران دونوں فریقین کی جانب سے معاندانہ کارروائیاں روکنے کے اعلان کے بعد محاذ پر آنے والی کمی کے باوجود پیش آیا ہے۔
یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے تل ابیب پر جنگ روکنے اور جنوبی لبنان سے مرحلہ وار پیچھے ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جیسا کہ 18 جون کو دستخط ہونے والی ایرانی امریکی مفاہمت کی یادداشت میں طے پایا تھا۔
بنیادی طور پر ایران نے بھی اس بات کو کئی بار دہرایا ہے کہ اس مفاہمت نامے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے اور اس کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ کی بات کی گئی ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اسرائیلی افواج کا وہاں سے انخلا ناگزیر ہے۔
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اور ان کے وزیر دفاع نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اسرائیلی افواج اس وقت تک جنوبی لبنان سے پیچھے نہیں ہٹیں گی جب تک شمالی اسرائیلی بستیوں سے خطرہ پوری طرح ختم نہیں ہو جاتا۔
-
لبنان پر اسرائیلی حملوں سے امریکہ ایران مذاکرات 'ڈی ریل' ہونے کا خطرہ تھا : اسحاق ڈار
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت پر ...
مشرق وسطی -
لبنان : تازہ اسرائیلی جنگ، عمارات کو 1 ارب 38 کروڑ ڈالر مالیت کا نقصان
اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے کہا ہے لبنان میں تازہ اسرائیلی جنگ کے دوران بمباری کر ...
مشرق وسطی -
اقوامِ متحدہ: اسرائیل کے غزہ کے بچوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں نسل کشی ہوئی
منگل کو اقوامِ متحدہ کی ایک آزاد تفتیش میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی ...
بين الاقوامى