لبنان پر اسرائیلی حملوں سے امریکہ ایران مذاکرات 'ڈی ریل' ہونے کا خطرہ تھا : اسحاق ڈار
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کی وجہ سے جنیوا میں مزاکراتی دور 'ڈی ریل' ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ لیکن جدوجہد کر کے اس صورت حال کو بہتر کیا گیا اور دونوں ملک مذاکراتی میز پر آئے۔
انہوں نے کہا امریکہ و ایران کے درمیان تکنیکی امور کا تعین کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ تاکہ مفاہمتی یادداشت میں جو چیزیں طے کی گئی ہیں، ان پر عملی پیش رفت ہو سکے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان خیالات کا اظہار 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا جنیوا میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے آغاز کے بعد ورکنگ گروپس کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں ایرانی جوہری پروگرام، ایران کے خلاف امریکی پابندیوں، منجمد ایرانی اثاثوں کے علاوہ لبنان میں اسرائیلی حملے اہم ترین موضوعات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا 'سوئٹزر لینڈ کے شہر برجن سٹاک میں جو مذاکرات اب شروع ہوئے ہیں یہ کئی دن پہلے شروع ہو سکتے تھے۔ لیکن لبنان پر اسرائیلی حملے آڑے آگئے۔ در حقیقت اسرائیلی حملوں کی وجہ سے جنیوا کا طے شدہ مذاکراتی عمل 'ڈی ریل' ہوا ہی چاہتا تھا۔
خیال رہے پاکستان جس نے امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو رکوانے میں شروع سے ہی اہم کرداد ادا کیا ہے۔ انہی ثالثی کی کوششوں کے سبب امریکہ و ایران مفاہمتی یادداشت پر امریکہ و ایران کے صدور نے دستخط کیے ۔
اب اگلے مرحلے کے مذاکرات جاری ہیں۔ دوسرے مرحلے کے ان مذاکرات میں بھی پاکستان کا کردار اہم ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف لگائی پابندیوں کو معطل کرنے اور ایران کی جانب سے عالمی جوہری ادارے کے معائنہ کاروں کو ایران داخلے کی اجازت دینا ہے۔
انہوں نے کہا امریکہ و ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی دستاویز انتہائی عرق ریزی سے تیار کی گئی ہے۔ جسے فریقین نے قبول کیا اور اب اس پر مزید پیش رفت سامنے آرہی ہے۔اس لیے کسی کو بھی فریقین کی طرف سے مفاہمتی دستخطوں کے لیے نیت کے بارے میں شکوک ظاہر نہیں کرنے چاہییں۔
اسحاق ڈار نے کہا فریقین کو 30 دنوں کے اندر اندر بقیہ مذاکراتی عمل مکمل کرنا ہے اور 60 دنوں میں وسیع تر پیش رفت کرتے ہوئے حتمی معاہدہ کرنا ہے۔
وزیر خارجہ پاکستان نے کہا اب فوری معاشی بہتری و فوائد اور کشیدگی ختم کرنے کے امور پر ترجیحا بات ہو گی۔ ہم پہلے بھی امن کے فوائد دیکھ چکے ہیں۔ جیسے ہی تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت شروع ہوئی ہے توانائی کی قیمتمیں نیچے آگئی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کا مذاکرات کرانے میں کردار اپنی جگہ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو 28 فروری سے پہلے والی حالت میں جہاز رانی کے لیے بحال ہونا چاہیے اور بغیر کسی فیس اور ٹول کے آمد و رفت جاری رہنی چاہیے۔