برطانیہ کا مشہور بلّا ’’ لاری ‘‘ چھ وزرائے اعظم پر بازی لے گیا، ساتویں کے استقبال کو تیار

"چیف ماؤس کیچر" کے لقب سے مشہور بلا ڈاؤننگ سٹریٹ میں 10 برس سے رہائش برقرار رکھے ہوئے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کیئر سٹارمر کا برطانوی وزیر اعظم کے طور پر سیاسی سفر پیر کو اس وقت ختم ہو گیا جب انہوں نے اپنے دفتر کی بالکونی کے سامنے سے اپنے عہدے سے استعفے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان ہفتوں کے دباؤ کا سامنا کرنے کے بعد اور وسطی لندن میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں اپنے دفتر میں حکومت کے سربراہ اور لیبر پارٹی کے صدر کے طور پر دو سال گزارنے کے بعد سامنے آیا۔ جس وقت سٹارمر نے اپنے استعفے کا اعلان کیا، اس مشہور رہائش گاہ کے مستقل ترین رہائشیوں میں سے ایک بلّا جس کا نام ’’ لاری ‘‘ ہے بھی اپنی جگہ پر موجود رہا۔

لاری کو برطانوی کابینہ کے دفتر کے لیے باضابطہ ’’ چیف ماؤس کیچر ‘‘ ( چوہے پکڑنے والا بڑا افسر ) کا لقب دیا گیا ہے۔ چوہے پکڑنے والا یہ بڑا افسر لاری 2011 سے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس نے اپنے قیام کے دوران یکے بعد دیگرے 6 وزراء اعظم دیکھے ہیں۔ ان وزرائے اعظم میں ڈیوڈ کیمرون، تھریسا مے، بورس جانسن، لیز ٹراس، رشی سوناک اور آخری کیر سٹارمر شامل ہیں۔

’’ لاری‘‘ اکثر ایسی سرکاری تصاویر اور میڈیا اپڈیٹس میں نظر آتا ہے جو وزیر اعظم کی رہائش گاہ سے شائع کی جاتی ہیں۔ وہ برطانیہ کی مشہور ترین غیر سیاسی شخصیت بن گیا ہے جہاں کئی مبصرین اسے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں تسلسل کی علامت سمجھتے ہیں۔

برطانیہ میں سیاسی قیادت کی بار بار تبدیلی کے باوجود ’’ لاری‘‘ ان تبدیلیوں کا گواہ بنا ہوا ہے کیونکہ اس کی مدتِ خدمت ایک دہائی سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یوں وہ اس تاریخی رہائش گاہ میں سب سے طویل عرصے تک رہنے والے اور غیر سیاسی عہدے پر سب سے زیادہ تسلسل برقرار رکھنے والے رہائشیوں میں سے ایک بن گیا ہے۔

واضح رہے ’’ لاری‘‘ کو اصل میں لندن میں کتوں اور بلیوں کے ایک مرکز سے گود لیا گیا تھا اور اسے اس تاریخی عمارت میں چوہوں کے خاتمے کے منصوبے کے حصے کے طور پر ڈاؤننگ سٹریٹ لایا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا کردار محض چوہے پکڑنے والے سے بدل کر برطانوی سیاسی زندگی میں ایک مستقل علامت اور نمایاں پہچان بن گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size