خلیج سے ملاحوں کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں : یو این میری ٹائم ایجنسی
جہاز رانی کے امور کو دیکھنے والے اقوام متحدہ کے بین لاقوامی ادارے نے کہا ہے کہ وہ ان ملاحوں کو سمندری پانیوں سے بحفاظت نکالنے کے لیے کوشش کر رہا ہے جو امریکہ اور ایران کی جنگ کے دوران اپنے جہازوں کے روکے جانے کے باعث پھنس کر رہ گئے تھے۔
یو این ایجنسی نے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے ان ملاحوں کی تعداد 11000 بتائی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ 28 مئی کو شروع کی تھی۔ اس دوران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی گئی، جبکہ ماہ اپریل کے شروع میں امریکی بحری افواج نے بھی محاصرہ باقاعدہ شروع کر دیا۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل ارسینیو ڈومینگیوز نے کہا ہے کہ ان ہزاروں پھنسے ہوئے ملاحوں کو نکالنے کے لیے ایران ، اومان اور دیگر ریاستوں کے تعاون سے کوششیں جاری ہیں۔
سیکرٹری جنرل کے بقول ملاحوں کو نکالنے کے لیے ان کی حفاظت کی ضمانت حاصل کی گئی ہے اور پوری طرح سے تصدیق کے بعد ہی ان کا انخلا شروع کیا گیا ہے۔ محفوظ آپریشن کے لیے تمام ملکوں کا تعاون ضروری تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے بعد سے خلیج کے ان پانیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال ہونا شروع ہو چکی ہے۔ عارضی طور پر آبنائے ہرمز کو رواں کرنے کے لیے دو روٹ ان ملاحوں اور پھنسے ہوئے جہازوں کے انخلا کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
'آئی ایم او' نے ان ملاحوں کے بحفاظت انخلا کے حوالے سے کہا وہ ہر روز ہونے والی پیش رفت اور نکالے گئے ملاحوں کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پیر کے روز آبنائے ہرمز سے کم از کم 36 کشتیاں نکالی گئی ہیں۔ یہ سلسلے تقریبآ ایک ہفتے سے جاری ہے۔