ایران تباہی کے دہانے پر تھا اور ہمیں ہر چیز دینے کے لیے تیار تھا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ روکنے سے متعلق سینیٹ کی ووٹنگ پر سخت تنقید کی ہے۔ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر جاری بیان میں اس ووٹنگ کو غلط وقت پر ہونے والی اوربے معنی قرار دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران شکست کے دہانے پر تھا اور امریکہ کو تقریباً ہر وہ چیز دینے کے لیے تیار تھا ،جو واشنگٹن چاہتا تھا۔
ٹرمپ نے لکھا:ایران شکست کے قریب تھا، گرنے کے لیے تیار تھا اور ہمیں تقریباً ہر چیز دینے پر آمادہ تھا۔ کئی دہائیوں میں پہلی بار ایران امریکہ اور اس کے صدر کا بھرپور احترام کر رہا تھا، لیکن امریکی سینیٹ نے جنگی اختیارات کے قانون کے حوالے سے ایک نامناسب اور بے مقصد ووٹ کر دیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے اس اقدام نے دشمن کی مدد کی اور ان کے مشن کو مزید مشکل بنا دیا، تاہم انہوں نے زور دیا کہ وہ اپنے مقاصد کسی نہ کسی صورت میں حاصل کر کے رہیں گے۔
ٹرمپ کو دھچکا
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب امریکی سینیٹ نے ایک ایسے بل کی منظوری دی ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کا پابند بناتا ہے۔ اسے کانگریس کی جانب سے ریپبلکن صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف تازہ ترین مخالفت قرار دیا جا رہا ہے۔سینیٹ میں 50 ووٹ موافق اور 48 ووٹ مخالف آئے، جس کے بعد جنگی اختیارات (War Powers) سے متعلق اس قرارداد کی توثیق کی گئی، جسے رواں ماہ کے آغاز میں ایوانِ نمائندگان بھی منظور کر چکا تھا۔
یہ ووٹنگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس غیر مقبول جنگ کے بارے میں تشویش نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی بلکہ بعض ریپبلکن ارکان میں بھی بڑھ رہی ہے۔ووٹنگ میں دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ ایک ڈیموکریٹ رکن کے علاوہ تمام ڈیموکریٹس نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ چار ریپبلکن سینیٹرز بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔
دوسری جانب دو ریپبلکن ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس فیصلے کے جنگ پر عملی اثرات کیا ہوں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدے کے لیے مذاکرات بھی کر رہی ہے۔
پہلی بار ایسا فیصلہ
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ امریکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں نے ایسا فیصلہ منظور کیا ہے جس میں صدرِ امریکہ کو مسلح افواج کو جنگی کارروائیوں سے واپس بلانے کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ اقدام 1973 کے وار پاورز ریزولوشن (War Powers Resolution) جسے عام طور پر قانونِ جنگی اختیارات کہا جاتا ہے، کے تحت کیا گیا ہے۔اگرچہ اس ووٹنگ کو زیادہ تر علامتی حیثیت دی جا رہی ہے، تاہم یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک واضح سیاسی دھچکا تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ کچھ عرصہ قبل تک انہیں کانگریس میں ریپبلکن اراکین کی تقریباً مکمل حمایت حاصل تھی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔قانونِ جنگی اختیارات کے تحت اس نوعیت کی قرارداد صدر کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس نہیں بھیجی جاتی۔
تاہم وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ قانون سازی آئین سے متصادم ہے، اس لیے اسے قانونی طور پر پابند نہیں سمجھا جا سکتا۔اس سے قبل ایوانِ نمائندگان بھی معمولی ریپبلکن حمایت کے ساتھ اس بل کی منظوری دے چکا ہے۔
ایوان میں قرارداد کے حق میں 215 جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ آئے تھے۔ قرارداد کی حمایت میں تمام ڈیموکریٹ اراکین کے علاوہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ووٹ دیا تھا۔