کینیا کے وزیر صحت نے منگل کے روز امریکیوں کے لیے زیر تعمیر ایبولا قرنطینہ مرکز کا کام معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ وزیر صحت نے یہ حکم عدالت سے توہین عدالت کی سزا سے بچنے کے ایک دن بعد دیا ہے۔
کینیا کی عدالت نے اس ایبولا قرنطینہ مرکز کو مقامی لوگوں کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے اس کی تعمیر روکنے کا پہلے ہی حکم دے رکھا تھا۔ اس امریکی مرکز کے لیے جاری منصوبے کے خلاف عوامی احتجاج بھی سامنے آیا تھا ، مگر عوامی احتجاج کی پروا نہیں کی گئی تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حکام یہ پہلے سے کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کا منصوبہ یہ تھا کہ جو امریکی بیرون ملک ہوتے ہوئے ایبولا وائرس کا شکار ہوں گے انہیں واپس امریکہ لانے کے بجائے کینیا میں منتقل کیا جائے گا تاکہ ان کا علاج کینیا میں ہی ممکن بنایا جائے اور امریکہ میں اس وائرس کے پہنچنے کا راستہ روک دیا جائے۔
یہ منصوبہ امریکہ کے شہریوں کو اس خطرناک وائرس سے بچانے کے لیے تیار کیا گیا۔ لیکن کینیا میں بھی عوام نے اس منصوبے کی مخالفت شروع کر دی کہ کینیا کا نظام صحت عام ایسا نہیں ہے کہ اتنا بڑا رسک لیا جائے کہ دوسرے ملکوں سے بھی ایبولا میں مبتلا امریکیوں کو اپنے ہاں رکنے کا موقع دیا جائے۔
ماہ مئی میں کینیا کی ہائی کورٹ نے حکومت کا حکم دیا تھا کہ اس ایبولا مرکز کی تعمیر روک دی جائے۔ یہ حکم کینیا میں قائم لاء سوسائٹی کی درخواست پر سنایا گیا تھا۔ کیونکہ عدالت ان دلائل پر قائل ہوگئی کہ کینیا کا صحت کا نظام اس قابل نہیں کہ ایبولا کے وائرس کو اپنے ہاں پھیلنے سے بچا سکے۔
لیکن کینیا کی حکومت نے عدالتی حکم کے باوجود اس ایبولا مرکز کی تعمیر جاری رکھی ، جس کے بعد عوامی احتجاج دوبارہ شروع ہو گیا۔ پیر کے روز عدالت نے وزیر صحت کو توہین عدالت کے الزام میں طلب کیا ۔
وزیر صحت نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ عدالتی احکامات کے انکاری ہیں نہ توہین کے مرتکب ہونے کا تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی۔ جس پر عدالت نے وزیر صحت عدن دولے کو معاف کر دیا مگر امریکی منصوبے کو جاری رکھنے کی اجازت نہ دی۔
اس عدالتی کارروائی کے اگلے روز وزیر صحت نے امریکی ایبولا منصوبے پر عمل درآمد روکتے ہوئے مرکز کی تعمیر معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ امریکہ نے اس مرکز کی تعمیر کے لیے ساڑھے تیرہ ملین ڈالر کینیا کو دینے کا وعدہ کر رکھا تھا۔