امریکہ ایران معاہدے کی سب سے 'الارمنگ' شق

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

امریکہ اور ایران نے جس مفاہمتی یادداشت یا معاہدے کے لیے فریم ورک کے سلسلے میں ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہے۔ اس وعدے کے تناظر میں امریکہ اور ایران دونوں کے لیے کئی اہم 'کمٹمنٹس'، تمام وعدے وعید آنے والی 'جیو پولیٹیکل' طرز کی تبدیلیوں کے لیے بیج کا کام کریں گی۔ لیکن اس کا یہ مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ان وعدوں میں یا فریم ورک کی شقوں میں سارے ایشوز ہی طے ہو گئے ہیں۔ جیسا کہ ایرانی جوہری پروگرام کا معاملہ ہے۔

اس مفاہمتی یادداشت یا معاہداتی فریم ورک کی غیر رسمی انداز سے باہر آنے والی معلومات کے مطابق رکھی گئی گنجائشوں میں سے ایک یہ بھی شامل ہے کہ علاقائی سطح پر ایک عدم جارحیت کی شق بھی رکھی گئی ہے۔ اس شق کے مطابق خطے کو بنیادی طور پر دو کیمپوں میں تقسیم ظاہر کیا گیا ہے۔ دونوں کیمپوں کے رکن ملکوں کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ دوسرے کیمپ کے ملکوں پر حملہ نہیں کریں گے۔ اس اہم شق کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ علاقائی حوالے سے بھی ایک ایسا معاہدہ ہے جس کی اس سے قبل مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں تھی۔

اگرچہ یہ شق ایک مفروضے پر مبنی ہے مگر اس کے باوجود ایک اہم شق ہے۔ مگر میں ابھی تک اس شق کے حوالے سے کوشش کے باوجود تصدیق نہیں کر سکا۔ ہو سکتا ہے کہ اس شق کو ابھی تک بیان کرنے والوں نے مختلف شکلوں میں بیان کیا ہو یا سمجھا ہو۔ لیکن اس کی اہمیت دراصل اس حقیقت کی ہے کہ یہ شق شامل ہو کر خطے میں موجود کشیدگی اور امن کی کئی بنیادیں الٹ پلٹ دے گی۔

یہ شق ایران اور اس کے اتحادیوں کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملے سے روک دے گی۔ جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے اور ایرانی اتحادیوں پر حملوں سے باز رہیں گے۔ تاہم میری دانست میں یہ ایک مبہم شق ہے، اس کی تشریح و تعبیر کی ضرورت ہے کہ پہلے اس شق کے حقیقی معنوں کو سمجھا جائے اور اس شق کا درست تجزیہ کیا جائے۔ نیز یہ واضح کیا جائے کہ امریکہ اور ایران کے اتحادیوں سے کون کون مراد ہیں۔ لبنانی حزب اللہ اور یمنی حوثیوں کو عام طور پر ایرانی اتحادی مانا جاتا ہے۔ البتہ عراق کا اس تناظر میں 'سٹیٹس' اس قدر واضح نہیں ہے۔ جہاں تک حماس کا تعلق ہے وہ بھی اس 'ایکویشن' سے باہر ہے۔

امریکی اتحادیوں میں اسرائیل کے علاوہ خلیجی ممالک اور اردن شامل ہیں۔ لہذا اگر ایران معاہدے کے اس فریم ورک پر دستخط کرتا ہے یا حتمی معاہدے پر دستخط کرتا ہے تو یہ معاہدے بڑے ہی موثر انداز میں اس کی پچھلے چالیس سال سے اسرائیل کے خلاف جاری مخاصمت اور جنگ کے خاتمے کا ذریعہ ہوں گے۔ یہ پیش رفت صرف حیران کن نہیں بلکہ سخت حیران کن ہو گی۔

دوسرا نتیجہ یہ اخذ کیا گیا ہے کہ مفروضے پر مبنی شق حزب اللہ کو تسلیم کر لینے کے مترادف ہو گی اور اب وہ ایک محفوظ اداکار کے طور پر اپنا وجود منوالے گی۔ یوں جو کوششیں لبنانی ریاست کرتی رہی ہے یا کر رہی ہے وہ پیچھے رہ جائیں گی۔ یہی چیز یمن کے حوثیوں کے حوالے سے ہو گی۔ حوثیوں کی حکومت کو قانونی جواز کا درجہ مل جائے گا اور دوسری قوتوں کو صنعا سے نکلنا ہوگا یا ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔

یہ تجاویز ظاہر کرتی ہیں کہ معاہدے کا اولین مقصد ایک بار پھر وسیع تر جنگ کی طرف لوٹنے سے ایک دوسرے کو روکنا ہے۔ جیسا کہ ماہ فروری میں ایک بار پھر امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چھڑ گئی تھی۔ بعد ازاں یہ جنگ سہ فریقی سے آگے نکل کر پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لینے کا سبب بن گئی۔

جنگ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں سے شروع ہوئی اور بعد ازاں ایران نے کویت، بحرین، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، سلطنت آف عمان اور اردن پر 'جوابی' حملے کیے۔ ایرانیوں کے حملوں کے جواب میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے حملے کیے۔ عراقیوں نے بھی ایران کی حمایت میں خلیجی ریاستوں پر حملے کیے۔ ادھر حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہو گیا۔ بعد ازاں حوثی بھی اسرائیل کے خلاف راکٹ، میزائل اور ڈرون حملوں میں شامل ہو گئے۔ حوثیوں نے پانیوں میں اسرائیلی جہازوں پر بھی حملے کیے۔

مذاکرات کا فوکس اس وسیع تر تصادم کو روکنے پر رہا۔ لیکن امریکیوں اور ایرانیوں کی طرف سے حقیقتاً ایسی کوئی خواہش سامنے نہیں آئی کہ وہ کوئی وسیع مگر ڈھیلے ڈھالے وعدے کرنا چاہتے ہیں۔

مجھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان یاد آ رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں جو پورے مشرق وسطیٰ میں امن لانے کا باعث ہو گا۔ اس بیان کو صرف چند لوگوں نے سنجیدگی سے لیا کیونکہ اب تک کے نتائج میں یہ دیکھنے میں آ رہا تھا کہ ایران کے ساتھ ابھی ایک محدود تنازعے کو بھی طے نہیں کیا جا سکا۔ یہاں تک کہ آبنائے ہرمز بھی نہیں کھلوائی جا سکی۔ لہذا کوئی شخص کس طرح یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ پورے علاقے میں امن لانے کے لیے معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مذاکرات کاروں کے ارادے ایک عارضی امن کے لیے ہیں یا ایک علاقائی منصوبہ ان کے پیش نظر ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کا معاملہ ابھی بھی جوں کا توں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ 60 دن کے تفصیلی مذاکرات میں یہ زیر بحث رہے گا۔ ہو سکتا ہے ان 60 دنوں میں توسیع کر لی جائے کیونکہ مفاہمتی یادداشت میں یہ بھی شامل ہے کہ معاملہ کافی سنجیدہ اور پیچیدہ ہے۔ اس لیے اس میں فریقین کی تعداد کو بڑھانے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ تعداد 13 تک بھی ہو سکتی ہے جس میں دونوں حکومتیں اور مختلف تنظیمیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

ثالثی اور تنفیذ کے تناظر سے دیکھا جائے تو درجنوں سوالات اور منظر نامے ایسے سامنے آئیں گے جنہیں طے کیا جانا ہو گا۔

مثال کے طور پر کیا ایران کو حزب اللہ کو ہتھیار فراہم کرنے سے روکا جاسکے گا؟ اور اگر اسرائیل حزب اللہ پر حملہ کرتا ہے کہ حزب اللہ زیادہ مضبوطی پکڑ رہی ہے تو کیا یہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔

اسی طرح اگر حوثی یمن میں مزید علاقے قبضے میں کرنے کے لیے مہم جوئی شروع کرتے ہیں تو کیا یہ چیز انہیں جارح نہیں ثابت کرے گی اور اس سے پورا یمن خطرے سے دوچار نہیں ہو جائے گا، حتیٰ کہ یمن کا پڑوسی ملک سعودی عرب بھی؟

اور اگر حوثیوں نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جو ان 13 فریقوں کے ملکیت نہ ہوں گے؟ اس کی مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ جیسے ایک جہاز نے پاناما کا پرچم لگایا ہو تو معاملے کو کیسے ہینڈل کیا جائے گا؟

اسے بھی زیادہ پریشان کن چیز یہ ہے کہ یہ شق ابھی تک غیر مصدقہ ہے۔ جس کے تحت جنگی کشیدگی کا خاتمہ کیا جا ئے گا۔ کیا ملیشیاؤں کو قانونی جواز مل جائے گا؟ کیونکہ حزب اللہ بہرحال ایک مسلح طاقت ہے جو لبنان کے حکومتی اختیار سے باہر کام کرتی ہے۔ اسے لبنان کی حکومت اور عرب مغربی ممالک نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

اس صورت میں یہ معاہدہ امریکہ کو پابند کرے گا کہ حزب اللہ کو علاقے میں ایک جائز قانونی اداکار کے طور پر تسلیم کرے۔ مستقبل میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں زیادہ مشکل ہو سکتی ہیں۔

یوں حزب اللہ ریاست کے اندر ریاست بن کر کردارادا کرنے کی کوشش میں رہے گی۔ لبنان کے ساتھ یمن میں بھی یہی صورت حال ہو سکتی ہے۔ جبکہ عراق کے لیے بھی خطرات ہوں گے۔ اگر اسے بھی اس معاہدے میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔

مجھے اس معاملے میں کافی سنجیدہ شکوک ہیں کہ امریکہ اسرائیل کو تحمل کی طرف لا سکتا ہے۔ نہیں لگتا کہ حزب اللہ لبنان میں اپنے آپریشن روک دے گی یا ایران کا علاقے میں اثر رکے گا۔ اپنے دفاع میں پیشگی حملوں کا بھی بیانیہ ہوگا۔ امریکی اسرائیل کو کارروائیوں سے بھی روک نہیں پائیں گے۔

ممکنہ معاہدے کے حوالے سے جو چیزیں اب تک لیکیج کے ذریعے باہر آئی ہیں۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ 1975 کے 'ہیلسنکی معاہدے' سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ اس معاہدے کے ساتھ اپنے ڈھانچے کے اعتبار سے مقابلے کا معاہدہ ہے۔ اس کا مقصد بھی تصادم کو روکنا تھا جو یورپ اور سوویت بلاک کے درمیان ممکن تھا۔ اس معاہدے کے سلسلے میں کہ یہ مقابلتا ایران اور اس کے اتحادی گروپوں کو تسلیم کرنے کا معاہدہ ہے خواہ ان گروپوں کا تعلق جغرافیائی اعتبار سے ہو یا سیاسی حوالے سے ایران کے ساتھ ہو۔

امریکی مذاکرات کاروں کا مقصد صرف وقت حاصل کرنا ہو سکتا ہے اور شاید امریکی یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایران کافی بدل جائے گا۔ لہذا یہ تجویز کردہ معاہدہ وسیع تر امن کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ معاہدہ صرف آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کافی نہیں ہوگا بلکہ یہ کئی تنازعات کا حل پیش کرے گا۔ لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ اس قدر جلدی ایران اتنا تبدیل ہو جائے گا۔ کیونکہ ایران کا سیاسی نظام بہت گہرا ہے۔ لہذا ایران میں کسی تبدیلی کے حوالے سے ہمیں کافی انتظار کرنا پڑے گا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size