آئین صدر کو انتخابی قوانین تبدیل کرنے کا اختیار نہیں دیتا ، امریکی جج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کے ایک وفاقی جج نے صدر ٹرمپ کی طرف سے ووٹر بننے کے لیے بطور شہری ثبوت پیش کرنے کی شرط عاید کرنے کو روک دیا ہے۔ یہ حکم ایک وفاقی جج نے بدھ کے روز جاری کیا ہے۔

اس حکم سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر میں یہ پابندی عاید کی تھی جب بھی کوئی شخص اپنا ووٹ رجسٹر کرائے گا تو اس کے لیے لازم ہوگا کہ وہ شہریت رکھنے کا ثبوت پیش کرے۔

اس شرط کو ختم کرنے کا حکم بوسٹن میں ایک ضلعی جج ڈینس کاسپر نے دیا ہے۔ اسی خاتون جج نے ایک سال پہلے بھی ایسے کئی حکم جاری کیے تھے جن کی بنیاد پر ٹرمپ کو بطور صدر انتخابی قوانین میں اصلاحات کے نام پر اپنی من مانی کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔ ایسے اقدمات عام طور پر تیسری دنیا کی جمہوری رویے کے اعتبار سے پسماندہ حکومتیں کرتی ہیں۔

وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے ایسی شرطیں عائد کرنے سے روک دیا ہے۔ اس سلسلے میں مقدمہ بوسٹن کی ڈیموکریٹک ریاست کے اٹارنی جنرل نے دائر کیا تھا۔ تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کی عاید کردہ قدغنوں پر عمل کو پہلے ہی مرحلے پر روک دیا جائے۔

فاضل جج نے اس امر سے اتفاق کیا کہ امریکہ کا آئین ریاستوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ریگولیشنز کا اہتمام کریں۔ جبکہ صدر ٹرمپ کی یہ نئی پابندیاں ریاستوں کے ان حقوق کو متاثرکرنے والی ہیں۔ جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ آئین صدر کو انتخابی امور میں ایسا کوئی اختیار نہیں دیتا ہے۔

دیگر تجویز کردہ تبدیلیوں میں یہ بھی شامل تھی کہ جب شہری خود کو بطور ووٹر رجسٹر کرائیں گے تو وہ اپنی امریکی شہریت کا ثبوت پیش کریں گے۔

نیز ڈاک کے ذریعے ووٹ اگر انتخابات کے مقرر کردہ دن کے بعد پہنچیں گے تو ان ووٹوں کو گنتی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ خواہ یہ ڈاک کے ذریعے آنے والے ووٹ پہلے ہی ڈاک کے حوالے کیے گئے ہوں گے۔ اس پابندی کا بظاہر مقصد اس ریاست کو سزا دینا تھا جو ووٹوں کی ترسیل کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو اچھے انداز سے انجام نہ دے سکے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں