حالیہ عرصے میں غزہ کے اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے جانے والے فلوٹیلاز میں شامل انسانی حقوق کارکنوں کی گرفتاریاں اور ان پر دوران حراست اسرائیلی فووج کی طرف سے تشدد کے بارے میں ایک رپورٹ میں خوفناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔
اس سلسلے کے اب تک کے آخری فلوٹیلا کے مسافروں پر اسرائیلی تشدد کی تحقیقات فرانس، اٹلی اور آسٹریلیا نے شروع کی تھیں۔ جس میں یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ انسانی حقوق کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی گرفتاری کے بعد ہڈیاں تک توڑی گئیں اور انہیں ہر طرح کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو تمام انسانی و اخلاقی اقدار کے منافی ہے اور بین الاقوامی قانون کے بھی خلاف ہے۔
یہ تحقیقات آخری فلوٹیلا کے 430 کارکنوں کے زیر حراست لیے جانے کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ جنہیں دوران حراست شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد عالمی سطح پر اٹھنے والے رد عمل کے پیش نظر کچھ دن بعد اسرائیلی فج نے رہا کر دیا تھا۔
فرانسیسی شہری مریم حدجال نوئی ٹیوسوٹ اور مالکہ باؤیا بھی اس فلوٹیلا میں شامل ایک کشتی پر سوار تھے جو غزہ میں سکول کے بچوں کے لیے امدادی سامان لے کر جا رہی تھی اور شیر خوار بچوں کے لیے ادویات اور دودھ کے ڈبے اس کے ہمراہ تھے کہ اسے بین الاقوامی پانیوں میں موجودگی کے دوران اسرائیلی فوج نے روک دیا۔
ان سب کو پرتشدد انداز میں کشتیوں سے گرفتار کر لیا گیا اور جہاز پر قائم اسرائیلی عقوبت خانے میں بند کر دیا۔ مالکہ باؤیا نے کہا مجھے کھینچتے ہوئے لے جایا گیا اور میرے بازوؤں کو میری کمر پر باندھ دیا گیا۔ میں اس تشدد کے دوران شدید تشدد سے کراہتی رہی۔
ہمیں ایسی حالت میں چلنے پر مجبور کیا گیا کہ ہمارے سر نیچے کو ہوں اور ہمارے ہاتھ ہماری گردنوں پر۔ عورتوں اور مردوں کو بلا امتیاز تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے کپڑے تک ان کے جسموں پر نہ رہنے دیے گئے۔ ان کے جوڑوں پر چوٹ لگائی گئی اور پھر انہیں ایک تاریک کینٹینر میں لے جایا گیا۔
38 سالہ مریم حدجال نے کہا جب کینٹینر کا دروازہ کھلا تو میرے سامنے ایک اور قیدی تھا۔ وہ بالکل برہنہ حالت میں تھا۔ اسرائیلی فوج نے مجھے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ میں سخت خوفزدہ تھی۔ اسی دوران ایک خاتون قیدی کو 3 اسرائیلی فوجی تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے مجھے بھی میرے بالوں سے پکڑ کر کھینچا اور اسی طرح تشدد کرتے ہوئے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر دیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے 'اے ایف پی' کے ساتھ بات کرتے ہوئے ان حقائق کی تردید کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی فوج ہمیشہ اپنی کارروائیوں کے دوران قوانین کا احترام کرتی ہے۔
آسٹریلیا کے شہر ملبورم میں ایک اور فلوٹیلا خاتون قیدی نے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا اسرائیلی فوجی تشدد کرتے ہوئے قہقہے لگاتے، گالیاں دیتے اور سر میں بھی پاؤں سے ٹھوکریں مارتے تھے۔ ان کا یہ تشدد کافی دیر جاری رہا۔ اس دوران اس کے ہاتھ زخمی ہوگئے جو وہ اپنے آپ کو ان حملوں سے بچانے کے لیے آگے کر رہی تھی۔
اسرائیلی فوجیوں کے لیے کوئی اخلاقی حد آڑے نہیں آتی، وہ مردوں اور عورتوں کو بلا امتیاز تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔ یہی سلوک میرے ساتھ بھی کیا گیا۔
یاد رہے اسرائیلی وزیر ایتمار بین گویر کی بنائی گئی ایک ایسی ہی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ جس میں وہ قیدیوں کو اپنے سامنے جھکائے ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں کو ان کی کمر پر باندھے ہوئے ہیں۔
مریم حدجال نے کہا اس کے پاؤں بھی زخمی ہوئے۔ اس دوران اس نے دیکھا کہ ایک اور قیدی کو کینٹینر میں تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کا چہرہ زخموں سے چور اور سوجا ہوا تھا۔ زخمی قیدیوں کو انتہائی ٹھنڈے لوہے اور لکڑی کے فلور پر لٹایا گیا۔ انہیں پانی اور خوراک سے محروم رکھا گیا۔
ان قیدیوں کو اسرائیلی جیل تزیات میں بھی قید رکھا گیا۔ جہاں انہیں مزید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی جیل میں جانے کے بعد بھی انہیں قیدیوں جیسی سہولتیں نہ دی جاسکیں بلکہ سیکیورٹی پر معمور اہلکار ان کی توپین کرتے رہے اور بندوقووں سے ان پر تشدد کرتے رہے۔
32 سالہ فرانسیسی ٹیسورٹ نے کہا اسرائیلی فوج کے یہ جرائم انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ انہوں نے مجھے بھی سر اور پسلیوں میں سخت چوٹیں لگائیں۔ اس قیدی کے بقول یہ تشدد انتہائی نوعیت کا تھا۔
29 سالہ سماجی کارکن جوھنز ہیپل نے 'اے ایف پی' کو بتایا اس کے سر کو خیمے کے پول کے ساتھ زخمی کیا گیا۔ جبکہ ایک اور دوست کو بار بار زمین پر گرا کر مارا جا رہا تھا۔ یہ ظالمانہ اور اذیت پسندانہ غیر انسانی رویہ تھا جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا۔