امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ ترکیہ کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے ایک نظرثانی کا عمل جاری ہے۔
وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک خصوصی ٹیم اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور امریکی قانون کے مطابق بعض شرائط کی تکمیل کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہمیں صدر نے اس عمل کو آگے بڑھانے کی ہدایت دی ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ نظرثانی کب مکمل ہوگی یا اس کا ممکنہ نتیجہ کیا ہوگا۔
واضح رہے کہ واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان ایف-35 طیاروں کا معاہدہ اس وقت تعطل کا شکار ہو گیا تھا، جب ترکیہ نے روس سے ایس-400 دفاعی نظام خریدا تھا، جس کے بعد اسے امریکی ایف-35 پروگرام سے نکال دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ ایف-35 طیارے اس وقت دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیاروں میں شمار کیے جاتے ہیں اور صرف 20 ممالک ان کے آپریٹر ہیں، جن میں امریکہ اور اس کے 19 قریبی اتحادی شامل ہیں۔ان ممالک میں آسٹریلیا، جنوبی کوریا، برطانیہ، اسرائیل اور اٹلی بھی شامل ہیں۔
نیوز ویک کے مطابق اس پروگرام کا حصہ بننا امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطح کے اعتماد اور اسٹریٹجک تعلقات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔