امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رکھی تو واشنگٹن دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اتوار کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر امریکا کو دوبارہ فوجی آپشن اختیار کرنا پڑا تو ایران کا وجود مٹ جائے گا،اس کے اقدامات واشنگٹن کو دانشمندانہ طرزِ عمل ترک کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی طیاروں نے جنگ بندی معاہدے کی ایک بار پھر خلاف ورزی پر ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کے ساتھ ساتھ ساحلی ریڈار تنصیبات پر فضائی حملے کیے۔ بہت ممکن ہے کہ وہ کبھی سبق نہ سیکھیں۔
ٹرمپ نے مزید خبردار کیا کہ اگر امریکا نے کشیدگی بڑھانے کا فیصلہ کیا تو ایران باقی نہیں رہے گا۔ ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب ہم مزید تحمل اور معقولیت کا مظاہرہ نہ کر سکیں اور ہمیں وہ مشن فوجی طاقت کے ذریعے مکمل کرنا پڑے جس کا ہم نے کامیاب آغاز کیا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو ایران قائم نہیں رہے گا۔
اس سے قبل امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹوں بعد ایران پر دوبارہ حملے کیے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عارضی امن معاہدے کے بعد اب تک کی شدید ترین کشیدگی قرار دی جا رہی ہے۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے، جس پر تقریباً دو ہفتے قبل چار ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے اتفاق کیا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ہفتے کے روز کہا کہ اس کی افواج نے نئے حملے اس وقت کیے جب پاناما کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو ہفتے کی صبح مبینہ طور پر ایرانی ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے اتوار کی صبح اطلاع دی کہ جنوبی ایران کے شہر سیریک میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
U.S. Navy and Air Force fighter jets conducted strikes tonight on 10 Iranian military targets at multiple locations in and near the Strait of Hormuz for Iran's drone attack on M/T Kiku. pic.twitter.com/Z0TLZRqmF6
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 28, 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا، لیکن اس نے اس پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
بیان کے مطابق یہ حملے تجارتی جہاز رانی کے خلاف ایران کی مسلسل جارحیت کے براہِ راست جواب میں کیے گئے، جن میں ایرانی فوجی نگرانی، مواصلاتی نظام، فضائی دفاع، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
بعد ازاں فاکس نیوز نے ایک امریکی دفاعی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران میں مقررہ اہداف پر کیے گئے امریکی حملے مکمل ہو چکے ہیں۔
واشنگٹن نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے رات کے وقت ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران کا کہنا تھا کہ اس نے ہفتے کے روز اس کے جواب میں امریکی افواج سے منسلک اہداف پر حملے کیے۔
ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملہ، جمعرات کو ایک مال بردار جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پیش آیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
ایران نے ایک بار پھر دنیا میں توانائی کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستے، آبنائے ہرمز، پر اپنی گرفت ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ یہ آبی گزرگاہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کئی ماہ کی بندش کے بعد دوبارہ بحال کی گئی تھی۔
برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے بتایا کہ ہفتے کو نشانہ بننے والے آئل ٹینکر کے کمانڈ روم کو نقصان پہنچا، تاہم عملے کے تمام افراد محفوظ رہے۔
ادھر بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے قائم مشترکہ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے حالیہ واقعات کے بعد سکیورٹی خطرے کی سطح بڑھا دی ہے۔
ایران نے مخصوص بحری جہازوں پر حملوں کی خبروں پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایسے بحری جہازوں کی جانب ''انتباہی فائرنگ'' کی جو ایران کی منظور شدہ بحری گزرگاہوں کے بجائے دیگر راستوں سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد دیگر جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے سے پہلے ایران سے اجازت نامے حاصل کرنا شروع کر دیے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ایران نے دفاعی کارروائی کے طور پر امریکا سے منسلک فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب بحرین، جہاں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا تعینات ہے، نے دعویٰ کیا کہ اس پر ایرانی ڈرون حملہ ہوا ہے۔ تاہم امریکی فوج نے ان اطلاعات پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
ایران کا اہم بحری گزرگاہ پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کا دعویٰ
ٰایران نے امریکا پر عارضی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے خاص طور پر لبنان میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کی۔
ایران کے مطابق اسرائیل نے مارچ میں تہران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے لبنان میں فوجی مداخلت کی تھی۔اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں متعدد بار جنگ بندی کے معاہدے طے پائے، جن میں تازہ ترین معاہدہ جمعے کے روز ہوا۔
تاہم یہ معاہدے اب تک مجموعی طور پر زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ اسرائیل اپنے زیر قبضہ علاقوں سے انخلا پر آمادہ نہیں، جبکہ حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ جب تک جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج موجود ہیں، وہ اپنے ہتھیار ڈالنے کے مطالبات قبول نہیں کرے گی۔
لبنان کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ہفتے کے روز جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں اسرائیلی ڈرون حملہ ہوا۔ یہ وہ علاقہ ہے جو جنگ کے دوران مسلسل اسرائیلی فضائی حملوں کی زد میں رہا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ایسے شخص کو نشانہ بنایا گیا ،جو اس کی افواج کے لیے خطرہ تھا۔
دوسری جانب حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے جمعے کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ہتھیار ڈالنے کے مترادف اوربے معنی قرار دیا۔
ادھر لبنان میں اب بھی لاکھوں افراد، جن میں اکثریت شیعہ آبادی کی ہے، مقبوضہ علاقوں میں اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔ اس صورتِ حال پر معاہدے کے خلاف غم و غصہ حزب اللہ تک محدود نہیں رہا بلکہ وسیع تر شیعہ برادری میں بھی پھیل گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اسرائیل کو لبنان میں قائم اپنی نام نہاد ''سکیورٹی زون'' پر قبضہ برقرار رکھنے اور بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں کی واپسی روکنے کا موقع ملے گا۔
ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ امریکا نے جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خطے میں اپنے مبینہ اتحادی گروہوں کی حمایت کی اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو ہوا دی۔ایران نے خلیجی ممالک میں موجود ان مقامات کو بھی نشانہ بنایا ،جہاں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ساحلی شہر سیریک میں امریکی حملے کے نتیجے میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنائے جانے کے بعد فیصلہ کن جواب دیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کیا کہ متعلقہ بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے اور بندرگاہ کی تنصیبات یا آلات کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب بحرین نے کہا کہ ایران کے تازہ حملے جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے خلیج میں سینکڑوں بحری جہاز، جن میں تیل سے بھرے آئل ٹینکر بھی شامل تھے، محصور رہے۔ تاہم گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جب ان جہازوں نے دوبارہ آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع کیا تو عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب آ گئیں۔
امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے عمان کے ساحل کے ساتھ جنوبی بحری راستے کو فروغ دے رہا ہے، جبکہ ایران چاہتا ہے کہ جہاز اس کے زیرِ کنٹرول شمالی بحری راستے سے گزریں۔ تہران کا طویل مدتی مقصد آبنائے ہرمز کے استعمال پر فیس عائد کرنا بھی بتایا جا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ اسلامی) کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق اپنی ہدایات کی کسی بھی خلاف ورزی کا سخت جواب دے گا۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جو اس تنازع کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم مذاکرات کار بھی ہیں، نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے اور اگر ایران کے اقدامات کے باعث دوبارہ کشیدگی یا جنگ بھڑکتی ہے تو اس کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوگی۔
وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا:ایران نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور ہم نے اس پر عمل کیا۔ اگر انہیں مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی اعتراض ہے تو وہ ہمیں فون کر سکتے ہیں، لیکن تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔