قلانچیں بھرتے عربی غزال: صحرا کی قدرتی خوبصورتی اور شاعرانہ حسن کی علامت

یہ بدو ثقافت اور شاعری میں قابلِ احترام جانور ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بدوی ثقافت میں قابلِ احترام سمجھا جانے والا غزال جزیرہ نما عرب میں جنگلی حیات کی ایک واضح علامت ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق عربی غزال اپنی چستی، چوکسی اور انتہائی احتیاط کے لیے مشہور ہے۔

غزال تیز ہوتے ہیں اور مختصر وقت میں 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ جاتے ہیں۔

ایس پی اے نے مزید کہا کہ اپنی جسمانی خصوصیات کے علاوہ غزال عرب روایت میں خوبصورتی اور ایک شاعرانہ حسن کی ثقافتی علامت بن گئے ہین۔

شعراء نے طویل عرصے سے اپنے محبوبوں کو غزال سے تشبیہ دی ہے جس سے اس کی صفات زمانہ قبل از اسلام سے لے کر آج تک کے اشعار میں امر ہو گئی ہیں۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ثقافتی ورثے میں قلانچیں بھرتے غزال "شکاری کی جستجو" کی نمائندگی کرتے ہیں جس سے ریتیلے خطوں میں اسے پکڑنے کے لیے درکار مہارت نمایاں ہوتی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی کوششوں کے لیے قومی مرکز برائے جنگلی حیات و رائل ریزرو کونسل نے افزائشِ آبادی کے لیے غزالوں کو ان کے قدرتی رہائش گاہوں میں دوبارہ داخل کرنے کے اقدامات شروع کیے ہیں۔

یہ کوششیں ماحولیاتی توازن بحال کرنے اور جنگلی حیات کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایک وسیع تر قومی حکمتِ عملی کے تحت آتی ہیں۔ اس اہم قدرتی ورثے کے تحفظ کو فروغ دینے والے آگاہی پروگرام اس کے علاوہ ہیں۔

اس ماہ کے شروع میں نیوم نے چھے انواع کے 1,100 سے زائد جانوروں کو اپنے وسیع فطری ذخیرے میں دوبارہ متعارف کرایا جو خطے کے قدرتی توازن کو بحال کرنے کے وسیع تر مشن کا ایک اہم قدم ہے۔

جیسے جیسے نیوم کا سبزکاری پروگرام 4.7 ملین درختوں، جھاڑیوں اور پودوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے تو اس وقت قدرتی ذخیرے میں موجود 530 عرب صحرائی غزال قدرتی پودوں پر پرورش پا رہے ہیں جسے اس بات سے مدد ملی ہے کہ مویشیوں کا یہاں چرنا ختم کر دیا گیا ہے۔

نیوم 223 عربی غزالوں کا مسکن بھی ہے جو عموماً گہرے رنگ کے اور زیادہ حسین ہوتے ہیں۔ یہ دامن اور ناہموار پہاڑی علاقوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں