امریکہ ایران کے تازہ حملے، آبنائے ہرمز میں آمدورفت پھر کم ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدو رفت ایک بار پھر سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔ یہ سست روی امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد دیکھنے میں آرہی ہے۔

جہاز رانی سے متعلق ایک ریسرچ انسٹیوٹ 'ایچ ایف آئی' کے مطابق اتوار کے روز صرف چار ٹینکرز اور ایک کنٹینر نے اومانی ساحل سے جڑی جنوبی راہداری کا استعمال کیا ہے۔ ان تمام کو امریکی بحریہ کی کشتی حفاظتی کور دے رہی تھی۔

دوسری جانب میری ٹائم ٹریکنگ فرم کپلر کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق اتوار کے روز کسی بھی جہاز نے خلیج سے روانگی کے لیے یہ روٹ استعمال نہیں کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ٹریفک میں یہ سست روی ہفتے کے روز سے شروع ہو گئی۔ جبکہ ایک جہاز کو بعد ازاں جمعرات کے روز دوران سفر نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف کئی حملے کیے گئے۔

اب امریکہ و ایران نے ایک بار پھر ان حملوں کو روکنے پر اتفاق کیا ہے مگر اس کے باجود آبنائے ہرمز میں ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے۔ صرف ایک جہاز نے اومانی راہداری کا استعمال خلیج سے نکلنے کے لیے کیا اور ایک نے داخل ہونے کے لیے کیا ہے۔

ایران کی طرف سے اتوار کے روز جہازوں کو انتباہ کیا گیا تھا کہ وہ کوئی نیا بنایا گیا راستہ اختیار نہ کریں۔ ایران کی مراد اسی اومانی راہداری سے تھی جو ایرانی ساحل سے بچ کر نکلنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

ہفتے کے روز کل 29 جہاز گزرے اور اتوار کے روز 12 جہازوں کا گزر ہوا۔ ایک اور ادارے 'اے ایکس ایس میرین' کے مطابق یہ تعداد ہفتے کے روز 36 تھی اور اتوار کے روز 19 ہوگئی تھی۔ یہ اعداد و شمار جہازوں کے گزرنے کی تصدیق کرتے ہیں مگر تعداد کم ہوگئی ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والے حملے کے بعد جہازوں نے اومانی راہداری استعمال کی ، مگر کم تعداد میں۔ 'اے ایکس ایس میرین' کے مطابق جمعرات کے بعد سے مجموعی طور پر 44 جہاز خلیجی علاقے سے گزرے ہیں۔

اس صورت حال کے پیش نظر اقوام متحدہ کے زیر قیادت ان 11000 سے زائد پھنسے ہوئے ملاحوں کو محفوظ نکالنے کا آپریشن بھی تعطل کا شکار ہو گیا ہے جو امریکہ ایران جنگ کے دوران خطے کے پانیوں میں پھنس گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں