امریکی سپریم کورٹ آج ٹرمپ انتظامیہ کے تین اہم مقدمات پر فیصلہ سنائے گی
ان میں نمایاں ترین پیدائش کے ساتھ شہریت کے حق کا خاتمہ، خواتین کے کھیلوں میں ٹرانس جینڈر افراد کی شرکت اور انتخابی اخراجات پر پابندیاں ہیں
امریکی سپریم کورٹ آج منگل کے روز اپنے 2025-2026 کے عدالتی سیشن کے آخری چار باقی ماندہ مقدمات میں فیصلے سنائے گی۔ ان کے نتائج تارکین وطن کے معاملات، خواتین کے کھیلوں اور انتخابی مہم کی فنڈنگ پر وسیع اثرات مرتب کریں گے، جس کے بعد عدالت میں موسم گرما کی تعطیلات ہو جائیں گی۔
ان مقدمات میں سب سے اہم امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو چیلنج کرنا ہے جو انہوں نے اپنے دور صدارت کے پہلے روز جاری کیا تھا۔ اس کے تحت غیر قانونی طور پر ملک میں موجود تارکین وطن اور غیر ملکی سیاحوں کے بچوں کو خود کار طریقے سے امریکی شہریت دینے کا خاتمہ کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے اپریل میں اس مقدمے کی زبانی سماعتوں کو خود دیکھا تھا اور عوامی طور پر تسلیم کیا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ عدالت ان کے خلاف فیصلہ دے گی۔ خاص طور پر اس سال کے اوائل میں جب عدالت نے ان کی انتظامیہ کی جانب سے اپنائے گئے باہمی کسٹم ڈیوٹی کے نظام کے ایک بڑے حصے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
ٹرمپ کا موقف ہے کہ پیدائش کے ساتھ شہریت دینے کی پالیسی غیر ملکیوں کو اس مقصد کے لیے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے کی ترغیب دیتی ہے کہ ان کے بچے امریکی شہری بن سکیں۔
اس کے برعکس فیصلے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ امریکی آئین کی چودہویں ترمیم سے متصادم ہے، جس میں یہ درج ہے کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے یا شہریت حاصل کرنے والے تمام افراد جو اس کے دائرہ اختیار میں ہیں، امریکی شہری ہیں۔
یہ مقدمہ تین غیر ملکی خاندانوں نے دائر کیا ہے، جن میں ہونڈراس سے تعلق رکھنے والی ایک پناہ گزین، اسٹوڈنٹ ویزا پر مقیم ایک تائیوانی شہری اور مستقل رہائش کے لیے درخواست گزار ایک برازیلی شہری شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے ان کے بچوں کو امریکی شہریت اور اس سے وابستہ فوائد، جیسے سوشل سیکیورٹی، صحت کی دیکھ بھال اور غذائی امداد سے محروم کر دیا ہے۔
ایک اور وسیع پیمانے پر زیر بحث مقدمے میں، عدالت ایڈاہو اور ویسٹ ورجینیا ریاستوں کے ان قوانین کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے رہی ہے جو خواتین کے کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کو حیاتیاتی طور پر خواتین تک محدود کرتے ہیں... اور ٹرانس جینڈر خواتین کو خواتین کی ٹیموں میں شامل ہونے سے روکتے ہیں۔
سماعتوں کے دوران کئی ججوں کا رجحان ریاستوں کو یہ پالیسیاں طے کرنے کی آزادی دینے کی طرف دکھائی دیا۔ خاص طور پر اس وقت جب امریکی ریاستیں ٹرانس جینڈر افراد کی خواتین کے کھیلوں میں شرکت کے حوالے سے تقسیم ہیں۔
عدالت انتخابی مہم کی فنڈنگ سے متعلق ایک مقدمے میں بھی فیصلہ سنائے گی، جس کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ آیا سرکاری پارٹی کمیٹیوں اور امیدواروں کے درمیان مربوط اخراجات پر عائد وفاقی پابندیاں آئین سے مطابقت رکھتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان پابندیوں کا خاتمہ ریپبلکن پارٹی کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل بڑی مالی برتری دے سکتا ہے، کیونکہ فیڈرل الیکشن کمیشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے پاس ڈیموکریٹک پارٹی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالی وسائل موجود ہیں۔
امریکی سپریم کورٹ ان آخری فیصلوں کے اجرا کے بعد اپنی سالانہ تعطیلات پر چلی جائے گی،،، اور 5 اکتوبر سے دوبارہ اپنے کام کا آغاز کرے گی۔ تاہم تعطیلات کے دوران جج طریقہ کار سے متعلق درخواستوں کا جائزہ لیتے رہیں گے اور ان مقدمات کا انتخاب کریں گے جو 2026-2027 کے عدالتی سیشن کے ایجنڈے میں شامل کیے جائیں گے۔