امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران سے ایسی مستقل، قابلِ تصدیق اور سخت نگرانی پر مبنی ضمانتیں چاہتا ہے جن کے ذریعے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تہران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کر دے۔
پروگرام ''دی مائیکل نولز شو'' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ مستقبل میں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ سخت جانچ پڑتال کے مؤثر نظام سے مشروط ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا:ہم مستقل، قابلِ تصدیق اور معائنوں سے تقویت یافتہ ضمانتیں چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران اپنے ملک میں موجود جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرے۔
وینس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر آج دوحہ پہنچے، جہاں وہ جون میں طے پانے والے عارضی معاہدے پر عمل درآمد کی کوششوں کے تحت قطری ثالثوں سے ملاقات کریں گے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے قطر میں ملاقاتوں کا اعلان کیا تھا، تاہم قطری وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکی وفد قطری ثالثوں اور ممکنہ طور پر پاکستانی ثالثوں، سے الگ الگ ملاقاتیں کرے گا۔
وزارت نے یہ بھی بتایا کہ دوحہ میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان کسی اعلیٰ سطح کی براہِ راست ملاقات کا ابھی تک کوئی شیڈول طے نہیں ہوا۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ اس کا فنی وفد صرف عارضی معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے موجود ہے اور اس کا امریکی وفد کے دورے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
امریکا کے موجودہ مؤقف میں قابلِ تصدیق ضمانتوں اور بین الاقوامی معائنوں پر زور ایک بنیادی نکتہ ہے، کیونکہ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ کوئی بھی نیا معاہدہ اگر مؤثر ضمانتوں سے محروم ہوا تو وہ ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوگا۔