مالی میں فوجی ٹھکانوں پر حملے، القاعدہ نے ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

مالی کے شمالی اور وسطی علاقوں میں ہفتے کے روز فوجی کارروائیوں میں نمایاں شدت دیکھنے میں آئی، جہاں مختلف مقامات پر فوجی تنصیبات کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔

مغربی افریقہ میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم ''جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین'' (JNIM) نے ان حملوں میں سے متعدد کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے کم از کم تین فوجی اڈوں پر قبضہ کر لیا ہے۔تاہم اس گروپ کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

تنظیم نے اپنی میڈیا چینلز کے ذریعے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا۔ادھر ایک اور پیش رفت میں مالی کی فوج اور آزواد لبریشن فرنٹ کے درمیان بھی جھڑپیں ہوئیں۔

محاذ نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے انیفس شہر میں داخلہ حاصل کر لیا ہے، جو کیدال سے تقریباً 100 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہ کارروائی ہفتے کی صبح شروع ہونے والے حملے کے بعد کی گئی۔

آزواد لبریشن فرنٹ کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد فوجی ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا ہے اور مالی کی فوج کے کئی اہلکاروں کو گرفتار بھی کیا ہے، جبکہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔


حملوں کی کوششیں اور دھماکے

حملوں میں ایک کارروائی دارالحکومت باماکو سے تقریباً 70 کلومیٹر دور واقع کینیوروبا جیل پر بھی کی گئی، جس کی تصدیق مالی کی فوج، سکیورٹی ذرائع اور مقامی رہائشیوں نے کی ہے۔

مالی کی فوج نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اگیلہوک، انیفس، گاؤ، سیفاری اور کینیوروبا میں اس کے فوجی ٹھکانوں پر حملوں کی کوشش کی گئی، تاہم فوج ان حملوں کا مقابلہ کر رہی ہے اور صورتحال مسلسل زیرِ نگرانی ہے۔

میدانی ذرائع کے مطابق گاؤ شہر میں واقع فیہرون آگ النصار فوجی کیمپ کے اندر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ دوسری جانب آزواد لبریشن فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ جھڑپوں کے دوران اس نے روسی افریقہ کور (Africa Corps) کی ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

محاذ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انیفس پر حملے کے دوران اس نے متعدد فوجی سازوسامان پر قبضہ کیا، جن میں بی ٹی آر (BTR) طرز کی ایک بکتر بند گاڑی بھی شامل ہے۔تاہم ان تمام دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

انیفس کی لڑائی کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ شہر کیدال جانے والے جنوبی راستے پر واقع ہے۔ کیدال آزواد لبریشن فرنٹ کا ایک اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے، اس لیے انیفس پر کنٹرول شمالی مالی میں طاقت کے توازن پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب مالی کے مختلف علاقوں میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور فوج کے ساتھ جھڑپوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا جا رہا ہے۔


فوجی حکومت کے وعدوں کے باوجود مالی میں سکیورٹی صورتحال مزید خراب

حالیہ حملوں نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ مالی کے فوجی حکمران، جنہوں نے 2020 اور 2021 میں دو فوجی بغاوتوں کے ذریعے اقتدار سنبھالا تھا، ملک میں سکیورٹی بہتر بنانے کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ستمبر 2024 میں القاعدہ سے وابستہ جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین (JNIM) نے باماکو ایئرپورٹ کے قریب نیم فوجی پولیس کی تربیتی اکیڈمی پر حملہ کیا تھا، جس میں تقریباً 70 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حالیہ مہینوں میں اسی گروپ نے ایندھن کی ترسیل میں بھی رکاوٹیں ڈالیں، جس کے نتیجے میں دارالحکومت باماکو کے رہائشیوں اور کاروباری اداروں کو بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر ہوئی۔

مالی کی حکومت نے حالیہ عرصے میں امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ واشنگٹن ایک جانب باماکو کے ساتھ سکیورٹی تعاون بحال کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ دوسری جانب معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی تلاش کر رہا ہے۔

دوسری طرف روس جو اپنی افریقہ کور (Africa Corps) فورس کے ذریعے مالی کی حکومت کی حمایت کر رہا ہے، اپریل میں ہونے والے حملوں کے بعد بھی مالی کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر چکا ہے۔

مالی میں شدت پسند گروہوں سے وابستہ تشدد اب پڑوسی ممالک برکینا فاسو اور نائجر تک بھی پھیل چکا ہے۔ ان دونوں ممالک نے بھی مالی کی طرح سکیورٹی تعاون کے لیے روس سے قربت اختیار کر رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں