غزہ کی تعمیر نو کے لیے تخفیف اسلحہ بنیادی شرط ہے: بنجمن نیتن یاھو

ہمیں جنوبی لبنان میں یلو لائن کے ساتھ رہنے کی قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو وہاں پر موجود مسلح گروپوں کو ختم کرنے اور تخفیف اسلحہ کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے رہائشیوں کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ بغیر کسی خطرے کے قیام کریں یا نقل مکانی کر لیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے رہائشیوں کے پاس قیام یا نقل مکانی کرنے کا آزادانہ اختیار ہے جس سے ہمیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ غزہ سے آنے والا خطرہ ختم ہو چکا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے سربراہ نے وضاحت کہ اب خطرہ ختم ہو چکا ہے ۔ یہ ہدف غزہ کے اندر ایک نئی سیکورٹی حدود قائم کر کے حاصل کیا گیا ہے جو کہ ان کی فوج کی جانب سے پٹی کے اندر قائم کردہ بفر زون کی طرف اشارہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ سے خطرہ ختم ہونے کے نتیجے میں غزہ کے گردونواح کی بستیوں میں رہائش کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جو کہ ان کے بقول علاقے کی بہتر ہوتی ہوئی سیکورٹی صورتحال کا نتیجہ ہے۔

یہ بیانات غزہ کی پٹی پر جاری جنگ اور اس سے وابستہ سیاسی و سیکورٹی پیش رفت کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جبکہ فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے بعد پٹی کے مستقبل اور تعمیر نو کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔

لبنان میں قیام کی قانونی حیثیت

لبنان کے حوالے سے بنجمن نیتن یاھو نے کہا کہ ہمیں جنوبی لبنان میں یلو لائن کے ساتھ رہنے کی قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ہم سے حزب اللہ کی سرنگوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔

بنجمن نیتن یاھو نے مزید کہا کہ حزب اللہ ایران کے ساتھ معاہدے کا خیرمقدم کرتی ہے اور ہمارے ساتھ ہونے والے معاہدے پر تنقید کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size