اٹلی کا ٹرمپ کے طنزیہ بیان پر ردعمل: 'لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اٹلی نے پیر کے روز اس ہفتے کے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وزیرِ اعظم جارجیا میلونی پر تازہ ترین سوشل میڈیا حملے پر

تنقید کی ہے۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک تبدیل کردہ تصویر شائع کی جس میں میلونی انہیں پُر التفات نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔ ساتھ یہ الفاظ درج تھے: "حکمِ امتناعی چاہیے۔"

اطالوی وزیرِ دفاع گیڈو کروسیٹو نے نیوز چینل سکائی ٹی جی24 کو بتایا، "لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں لیکن تعلقات کو برقرار رہنا چاہیے۔"

وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی کہا، "مجھے یقین ہے کہ بحرِ اوقیانوس کے تعلقات انفرادی تبصروں سے بالاتر ہیں۔"

میلونی نے ذاتی طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

گذشتہ ماہ جی سیون سربراہی اجلاس کے بعد ٹرمپ نے میلونی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ایک تصویر بنوانے کا موقع دینے کے لیے میلونی نے ان سے "منت سماجت" کی تھی اور وہ صرف اس لیے راضی ہو گئے کیونکہ انہیں "ان پر ترس آ گیا"۔

انہوں نے میلونی پر یہ بھی الزام لگایا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی کی حمایت کرنے میں اٹلی کی ناکامی کے بعد اندرونی سیاسی وجوہات کی بنا پر انہوں نے واشنگٹن سے روابط درست کرنے کی کوشش کی۔

"یہ مسلسل، بلا اشتعال حملے بے معنی ہیں،" میلونی نے اس وقت کہا تھا۔

انہوں نے کہا، مقبولیت حاصل کرنے میں "آپ کی دوست ہونے سے مجھے یقیناً کوئی مدد نہیں ملی"۔ نیز کہا: "میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں۔"

انتہائی دائیں بازو کی رہنما میلونی نے خود کو ایک ایسی یورپی رہنما کا مقام دیا جو یورپ اور ٹرمپ کے درمیان ثالثی کرنے کے قابل تھا لیکن انہوں نے خود کو ٹرمپ سے خاصا دور کر دیا۔

بتیس ممالک کے اتحاد نیٹو کا اس ہفتے انقرہ میں اجلاس ہونے والا ہے جس سے قبل ٹرمپ یورپی رکن ممالک پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں