آسٹریلوی خاتون نے چار سالہ بیٹے کو قتل کیا، کچھ کھا لیا، آدم خوری سے متعلق نئی بحث

ریاست "نیو ساؤتھ ویلز" میں 32 سالہ خاتون نے رضاکارانہ طور پر خود کو پولیس کے حوالے کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

آسٹریلیا میں پولیس نے ایک خاتون پر اس وقت قتل کا الزام عائد کیا ہے جب یہ بات سامنے آئی کہ اس نے اپنے بچے کو مار ڈالا اور پھر اس کے گوشت کا ایک حصہ کھایا اور پھر رضاکارانہ طور پر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس اہلکاروں نے جلد ہی اس تباہی کا سراغ لگا لیا جو چار سالہ بچے پر ٹوٹی تھی۔

یہ واقعہ آسٹریلوی ریاست "نیو ساؤتھ ویلز" کے ایک گھر میں پیش آیا جہاں تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ 32 سالہ خاتون نے اتوار کی شام 4:40 بجے خود کو پولیس کے حوالے کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ اس نے اپنے بیٹے کے خلاف ایسے افعال کیے جن میں آدم خوری شامل تھی۔ یہ معلومات "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے مختلف ذرائع سے جمع کی ہیں۔

پولیس اہلکاروں کو بچے کی لاش ملی جس کے بازو پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔ یہ لاش اس وقت ملی جب وہ "وایونگ" کے علاقے میں "بائرن" سٹریٹ پر واقع خاتون کے گھر کا معائنہ کر رہے تھے۔ آسٹریلوی نیٹ ورک "نائن نیوز" نے رپورٹ کیا کہ بچہ لاش ملنے سے چند روز قبل ہی ہلاک ہو چکا تھا۔ باوثوق ذرائع نے اخبارات "سڈنی مارننگ ہیرالڈ" اور "ڈیلی ٹیلی گراف" کو بتایا کہ آدم خوری کے حوالے سے خدشات پولیس اور ماں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے پیدا ہوئے۔

جرائم کا شکار بچے

خاتون، جس کی شناخت بچوں کے جرائم کے متاثرین سے متعلق آسٹریلوی قوانین کے تحت ظاہر نہیں کی جا سکتی، اپنی کار چلا کر پولیس سٹیشن گئی اور خود کو حوالے کر دیا۔ اس کی کار اور دیگر شواہد ضبط کر لیے گئے ہیں تاہم پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد میں سے کوئی آدم خوری کی طرف اشارہ کرتا ہے یا نہیں۔

خاتون پر گھریلو تشدد سے متعلق ایک کیس میں قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ چاڈ گیلس نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ماں اور بیٹے کے درمیان خاندانی رشتہ تھا اور وہ اس رہائشی یونٹ میں اکٹھے رہتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے بھی پولیس ریکارڈ میں جانی جاتی تھی۔

گیلس نے کہا یہ ایک انتہائی ہولناک منظر تھا۔ سرکاری طبی ماہر موت کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے لاش کا پوسٹ مارٹم کریں گے۔ ہارلے چیسلیٹ نامی ایک پڑوسی نے بتایا کہ بچہ ایک چھوٹا سا فرشتہ تھا جو اکثر اپنے کھلونے والی کار اور اپنے چھوٹے کتے کے ساتھ کھیلنے میں گھنٹوں گزارتا تھا۔ اس کا کتا "سٹافورڈ شائر بل ٹیرئیر" نسل کا تھا۔

گھریلو تشدد

چیسلیٹ نے "ڈیلی ٹیلی گراف" اخبار کو بتایا کہ میں یقین نہیں کر سکتا کہ وہ مر گیا ہے۔ وہ ایک اچھا بچہ تھا اور کبھی کبھی تھوڑا شرارتی اور نٹ کھٹ بھی تھا۔ اس کی عمر کے تمام بچے ایسے ہی ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اس بچے سے پیار کرتا تھا۔ کبھی کبھی وہ جاگتا رہتا اور رات نو یا دس بجے تک ادھر ادھر بھاگتا رہتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ بعض اوقات میراتھن ریس میں دوڑ رہا ہو۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا وہ بہت زیادہ توانائی کا مالک تھا اور ایک انتہائی پیارا بچہ تھا۔

51 سال کے گلین ونٹربوٹم ایک مکینک ہیں اور ماں کی کار کی مرمت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ماں اور اس کے بیٹے کے درمیان مسائل کی کوئی علامت کبھی نہیں دیکھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں اس سال کے شروع میں اس کرائے کے مکان میں منتقل ہوئے تھے۔ ان کا یہاں آنا ان کے سابق شوہر کے ہاتھوں گھریلو تشدد کا شکار ہونے کے الزامات کے بعد تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں