پستول اور کارتوس... اردوان کی جانب سے نیٹو کے رہنماؤں کو غیر روایتی تحفہ

پستولوں کو لکڑی کے ڈسپلے بکس میں رکھا گیا تھا جس پر ترکیہ کا جھنڈا اور نیٹو کا لوگو آویزاں تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بیلجیئم کے وزیراعظم کو ترکیہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر اس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے اپنے بیگ میں پستول اور کارتوس دیکھے۔

انقرہ میں ہونے والے اس سربراہی اجلاس کے بعد جس میں شرکاء کے درمیان اختلافات بھی دیکھنے میں آئے، ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے مہمانوں کو ایک غیر روایتی تحفہ دیا، جو ایک قدیم طرز کا پستول اور کارتوس تھے۔ اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ یہ محض کوئی یاد گاری چیز نہیں ہے۔ اردوان اس تحفے کے ذریعے ترکیہ کی دفاعی صنعت کو اجاگر کرنا چاہتے تھے، جو اب برآمدات اور خارجہ پالیسی کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔

لتھوینیا کے صدر کے دفتر سے جاری کردہ تصاویر کے مطابق یہ پستول "جوموسائے 357 میگنم" لگتا ہے، ایک نایاب چھ گولیوں والا پستول ہے جسے ترک کمپنی ایم کے ای نے 1990 کی دہائی میں تیار کیا تھا۔ یہ پستول ترکیہ کے جھنڈے اور نیٹو کے لوگو والے لکڑی کے بکس میں رکھا گیا تھا، جس پر یہ عبارت درج تھی "جوموسائے، ہمارے ملک میں تیار ہونے والا پہلا ریوالور پستول۔"

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے ترجمان نے بتایا کہ تمام رہنماؤں کو ایک ہی ماڈل دیا گیا، جس پر ان کے نام کندہ تھے۔ بیلجیئم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے اپنا بیگ برسلز ایئرپورٹ کی پولیس کے حوالے کر دیا تاکہ اسے لاکر میں محفوظ کیا جا سکے۔ پولینڈ کے صدر کے معاون نے ریڈیو پر بتایا کہ ان کا پستول وارسا ایئرپورٹ پر کسٹم کلیئرنس کا منتظر ہے اور اسے کسی محفوظ جگہ پر رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یقیناً اس سے کوئی گولی نہیں چلائے گا۔"

ہالینڈ اور سویڈن کے وزرائے اعظم کے دفاتر نے بتایا کہ ان کے پستول انقرہ میں موجود سفارت خانوں کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ ہالینڈ کا پستول ناکارہ بنایا جائے گا، جبکہ سویڈن کا پستول درآمدی کارروائیوں کا منتظر ہے۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ذرائع کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹامر کو دیے گئے پستول کے ساتھ صفائی کا سامان اور 500 گولیاں بھی دی گئی تھیں۔

اطالوی وزیراعظم جورجا میلونی کا پستول حکومتی ہیڈکوارٹر میں دیگر سرکاری تحائف کے ساتھ محفوظ ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لائن اپنے پستول کو ایک عسکری عجائب گھر کو عطیہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جبکہ یونانی رہنما اسے ایتھنز کے وار میوزیم کو دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
ترکیہ میں جدید پستول کی صنعت بنیادی طور پر نیم خود کار ہتھیاروں پر مرکوز ہے، جس کی وجہ سے جوموسائے پستول جمع کرنے والوں کے لیے ایک نایاب اور تجسس والی چیز بن گئی ہے۔ ترک اسلحہ سازوں نے سستے پستول اور رائفلز کے ساتھ یورپ کی شہری ہتھیاروں کی مارکیٹ میں دھاوا بول دیا ہے، جس نے اطالوی اور بیلجیئم کے قدیم برانڈز کو چیلنج کیا ہے۔ جنیوا میں چھوٹے ہتھیاروں کے ایک سروے کے مطابق ترکیہ 2019 سے 2024 کے درمیان امریکہ اور اٹلی کے بعد دنیا میں چھوٹے ہتھیاروں کا تیسرا بڑا برآمد کنندہ رہا ہے، جس کی کل برآمدات کی مالیت تقریباً تین ارب ڈالر رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں