سعودی عرب : مارشل آرٹس کی خاتون کھلاڑی ہتان السیف پروفیشنل مقابلوں کے لیے پرجوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کی 'ایم ایم اے فائٹر' ہتان السیف امیچور سطح پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد پروفیشنل ڈیبیو کی تیاری میں مصروف ہیں۔ انہیں فخر ہے کہ وہ مملکت کی نمائندگی کریں گی۔ وہ ان دنوں ریاض میں پروفیشنل ڈیبیو کی تیاری کر رہی ہیں۔

ہتان السیف نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے کہا پروفیشنل سطح پر مقابلہ کرنا طویل عرصے سے میری خواہش تھی۔ میرا خواب تھا کہ میں بحیثیت پروفیشنل 'کیج' میں قدم رکھوں نہ کہ شوقیہ کھلاڑی کے طور پر۔ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہترین انداز میں مملکت کی نمائندگی کروں گی۔

'پی ایف ایل مینا' میں ہتان الیسف سعودی خاتون کے طور پر مملکت کی نمائندگی کرنے والی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ میں بہت سی خواتین اور بہت سے لوگوں کی نمائندگی کر رہی ہوں۔ مملکت کی حمایت اور محبت پر مجھے فخر ہے۔

انہوں نے مزید کہا پروفیشنل ڈیبیو کا دباؤ موجود ہے لیکن میرا مقصد اس تجربے سے لطف اندوز ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقابلے میں حصہ لینے والے ہر فرد کا اپنا منصوبہ اور اپنا کھیل ہوتا ہے۔

سعودی عرب میں کھیلوں کے فروغ پر بات کرتے ہوئے ہتان السیف نے مارشل آرٹس کو مشکل ترین کھیلوں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو اس کھیل میں چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بہت سی خواتین اس کھیل میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے عزم و ارادہ رکھتی ہیں۔

ہتان السیف نے کہا فائٹرز بنائے نہیں جاتے۔ یہ پیدائشی فائٹرز ہوتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی چیز سے لڑ رہا ہے۔ ڈپریشن سے لڑیں اور اپنی کمزوریوں سے لڑیں۔

انہوں نے مزید کہا مارشل آرٹس حالات کا مقابلہ کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس موقع پر ہتان نے اپنے کیریئر کے آغاز میں دستیاب محدود تربیتی مواقع کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے سہولیات کا آغاز حال ہی میں شروع ہوا ہے۔

کھیل سے اس قدر دلچسپی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہتان الیسف نے بتایا کہ ایک جگہ ساکت رہنا کبھی بھی ان کی شخصیت کا حصہ نہیں رہا۔ خاموشی انہیں بے چین کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں