سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر منگل کے روز روایتی سعودی ثقافتی رنگ کے قالین بچھا کران کا پرجوش استقبال کیا گیا۔ ولی عہد سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ کا ریاض پہنچنے پر استقبال کیا۔
صدر ٹرمپ کا یہ وائٹ ہاؤس میں دوسری بار بطور صدر پہنچنے کے بعد دنیا کے کسی بھی ملک کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ انہوں نے 20 جنوری کو دوسری مدت کے لیے صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ اپنا پہلا دورہ سعودی عرب کا کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پچھلے دور صدارت میں بھی غیر ملکی دوروں کا آغاز سعودی عرب سے ہی کیا تھا۔
سعودی عرب پہنچنے کے بعد وہ اس 4 روزہ غیر ملکی دورے کے دوران قطر و متحدہ عرب امارات بھی جانا چاہتے ہیں۔
جب وہ منگل کے روز اپنے خصوصی طیارے پر ریاض پہنچے تو ان کے لیے روایتی سعودی ثقافتی رنگ 'لیوینڈر' کے قالین بچھا کر ان کا خیر مقدم کیا گیا۔ استقبال کے لیے بطور خاص منتخب کیے گئے اس رنگ کو سعودی عرب کے شاہی مہمانوں کے لیے تقریبات میں بچھایا جاتا ہے۔
سعودی عرب میں 'لیوینڈر' رنگ سے استقبال کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
مملکت نے 2021 میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی شاہی تقریبات میں 'لیوینڈر' رنگ کا استعمال کریں گے اور خیر مقدم کے لیے بچھائے گئے قالین بھی اسی رنگ کے ہوں گے۔
'لیوینڈر' کا یہ رنگ مملکت کے صحرائی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ خصوصاً موسم بہار میں مملکت کے صحراء اس رنگ کی عکاسی کرنے والے پھولوں یعنی 'لیوینڈر' کا خوبصورت اظہار بن جاتے ہیں۔
سعودی خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' کے مطابق یہ رنگ قدرتی جامنی رنگ کے قریب تر ہے۔ تب سے یہ سعودی عرب کا دیرینہ ثقافتی رنگ سعودی عرب کی سرکاری تقریبات کے لیے بنائے جانے والے قالینوں میں نمایاں نظر آتا ہے اور نئے قالینوں میں اسے کناروں پر بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔
دسمبر 2020 میں یونیسکو نے سعودی عرب اور کویت کے بنائے گئے قالینوں کو ورثے کے طور پر شامل کیا ہے۔ یونیسکو کے مطابق قالینوں کی یہ بنائی خواتین کرتی ہیں۔
Saudi Arabia’s Crown Prince Mohammed bin Salman welcomes US President Donald Trump at King Khalid International Airport in Riyadh.#US #SaudiArabia #Trump #MBS
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) May 13, 2025
Read more: https://t.co/u11ZzWGM5f pic.twitter.com/EqgCY6waVf
یہ زمین پر قائم کی گئی افقی طرز کی کھڈیوں پر بنائے ہوئے قالین کی ایک قسم ہے۔ جو مضبوطی اور پائیداری میں ٹیکسٹائل کے کپڑے کی طرح بنا ہوا ہوتا ہے اور اس قالین کی تیاری میں قدرتی ریشوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' نے اس نئے رنگ کے استعمال کو مملکت کے ویژن 2030 کے تحت جدت، ترقی اور نشاۃ ثانیہ کی ایک نئی شناخت قرار دیا ہے۔
مملکت کے رسمی قالینوں کو 'لیوینڈر' رنگ کے قالینوں میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری وزارت ثقافت اور شاہی پروٹوکول کے باہمی تعاون کی بنیاد پر انجام دی جو سعودی ثقافتی عناصر اور شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے اہم ہے۔
-
سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے امریکہ میں ملازمت کے لاکھوں مواقع پیدا ہوئے: شہزادی ریما
امریکہ میں متعین سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے واضح کیا ہے کہ سعودی ...
مشرق وسطی -
چار برس میں امریکہ کے ساتھ سرمایہ کاری تعلقات کو 600 ارب ڈالر تک لے جائیں گے: سعودی عرب
سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے منگل کے روز سعودی-امریکی سرمایہ کاری فورم کی ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ تمام شعبوں میں سعودی عرب کو بنیادی شریک کے طور پر دیکھتے ہیں: وزارت خارجہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات کے ...
بين الاقوامى