جنوبی لبنان میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ اسرائیل کے تازہ فضائی حملے

سفارتی مذاکرات اور میدانی کشیدگی کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایک ایسے وقت میں جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد اور جنوبی لبنان کے علاقوں سے اسرائیلی انخلا کو منظم کرنے کے لیے امریکی کوششیں تیز ہو رہی ہیں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری ہیں جو دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

لبنان میں امریکی وفد کی آمد

ایک امریکی فوجی وفد ہفتے کے روز لبنان پہنچا اور اس نے لبنانی عسکری قیادت کے ساتھ ملاقاتیں شروع کر دیں ہیں۔ ان ملاقاتوں کامقصد جنوبی لبنان میں پہلے تجرباتی زون سے اسرائیلی فوج کے انخلا پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی ‘سے بات کرتے ہوئے ایک لبنانی فوجی ذریعے نے وضاحت کی کہ یہ انتظامات جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی تیاری کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔

ذریعے نے تصدیق کی کہ وفد کا بنیادی مشن جون کے آخر میں واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے شدہ فریم ورک معاہدے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے جس کا آغاز پہلے تجرباتی زون سے اسرائیلی انخلا کے ساتھ ہو گا۔

واشنگٹن میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہم اب فریم ورک پر عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں اور چند دنوں میں پہلا تجرباتی زون شروع کر دیا جائے گا جبکہ اس وقت اضافی تجرباتی زونز کے نقشے تیار کیے جا رہے ہیں اور ان کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے ساتھ رابطہ کاری کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم جلد ہی بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے شروع کریں گے تاکہ لبنانی حکومت کو ان علاقوں اور ملک بھر میں اپنی خودمختاری بحال کرنے میں مؤثر طریقے سے مدد کی جا سکے۔

شرائط اور مذاکرات

لبنان نے 15 اور 16 جولائی کو روم میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت سے قبل اسرائیل سے دو تجرباتی زونز سے انخلا کی شرط رکھی ہے جبکہ فریم ورک معاہدے میں انخلا کے لیے کوئی ٹائم لائن طے نہیں کی گئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے تک دس کلومیٹر گہرے سکیورٹی زون کے اندر اپنی فوج کی موجودگی پر اصرار کر رہا ہے جس کی حزب اللہ مخالفت کرتی ہے۔ حزب اللہ اپنے ہتھیاروں پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے اور اسرائیلی فریق کے ساتھ کسی بھی براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتی ہے۔

توقع ہے کہ روم کے مذاکرات سے قبل عون جولائی کے آخری ہفتے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔

فضائی حملے اور عمارتوں کو اڑانے کا سلسلہ

میدانی سطح پر اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے، توپ خانے سے گولہ باری اور گھروں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھا۔

نیشنل نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ صور ڈاریکٹوریٹ کے قصبے المنصوری کے المشاع محلے کو تین فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک ڈرون نے مجدل زون قصبے پر حملہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مرجعیون ضلع کے قصبے حولا میں گھروں کو اڑانے کا عمل بھی جاری رہا۔

ایک اسرائیلی ڈرون نے کفرتبنیت قصبے پر دو مرحلوں میں فضائی حملہ کیا جبکہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران نبطیہ الفوقا میں لڑاکا طیاروں کا ایک اور ڈرونز کے دو حملے کیے گئے اور توپ خانے سے کونین اور بیت یاحون قصبوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی اور لبنانی حکومتوں نے 26 جون سنہ 2026ء کو امریکی ثالثی میں ایک سکیورٹی معاہدہ طے کیا تھا جس کے تحت اسرائیل لبنانی فوج کو دو علاقے حوالے کرے گا۔

اسرائیل نے جنوبی سرحد سے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی میں ایک سکیورٹی زون قائم کر رکھا ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیلی بستیوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانے کے لیے یہ ضروری ہے۔

بنجمن نیتن یاھو نے اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ لبنانی علاقوں کا دورہ کیا اور فوجیوں کو بتایا کہ جب تک ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ خطرہ بنی رہے گی اسرائیل جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں