ایک امریکی عہدیدار نے اتوار کو انکشاف کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 20 تجارتی جہاز امریکی فوج کے ساتھ رابطے اور تعاون کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرے۔
عہدیدار نے مزید بتایا کہ متعدد جہاز ایسے بھی تھے جو واشنگٹن کے ساتھ کسی قسم کے رابطے یا ہم آہنگی کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کر گئے، جیسا کہ ویب سائٹ ''ایکسیوس'' نے رپورٹ کیا۔
نئے حملے
یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی ،جب امریکی فوج نے اتوار کے روز ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنے والے شہری بحری جہازوں اور تجارتی کشتیوں پر حملہ کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کا حکم ایرانی افواج کو جواب دہ ٹھہرانےکے لیے دیا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی افواج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی تھی، جیسا کہ امریکی نشریاتی ادارےCNNنے رپورٹ کیا۔
امریکی فوج کے مطابق امریکی طیاروں نے کامیابی کے ساتھ ایک ایرانی کروز میزائل اور ایک ڈرون کو مار گرایا۔
سفارتی کوششوں کو ناکام بنا دیا
ایران نے اپنی سرزمین پر حالیہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
یہ بات ایرانی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہی گئی۔بیان کے مطابق تہران نے امریکا پر یہ بھی الزام لگایا کہ اس نے جون میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے اور آبنائے ہرمز میں دوبارہ عدم تحفظ کی فضا پیدا کرنے اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی میں خلل ڈالنے کا سبب بنا ہے۔
حملوں کا تبادلہ
یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی، جب اتوار کے روز واشنگٹن اور تہران کے درمیان میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملوں کا تبادلہ ہوا۔
رائٹرز کے مطابق ایران نے اس دوران خلیجی خطے کے کئی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور ایک بار پھر اہم آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا۔
اس کے مقابلے میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ آبنائے ہرمز ان تمام جہازوں کے لیے کھلی ہے جو اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے قانونی طور پر گزرنا چاہتے ہیں۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ امریکی افواج علاقے میں تعینات اور مکمل طور پر تیار ہیں تاکہ جہاز رانی کی آزادی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے، باوجود اس کے کہ ایران کی غیر ضروری جارحانہ کارروائیاں، ہراسانی، دھمکیاں اور من مانی اعلانات جاری ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا، اور جہاز رانی معمول کے مطابق جاری ہے۔
یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے عارضی معاہدے کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور آئندہ 60 دنوں میں مزید مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ کرنا تھا۔