سعودی عرب: انٹرنیٹ صارفین میں اے آئی ٹولز اپنانے کی شرح 45.2 فیصد تک پہنچ گئی
61 فیصد آبادی روزانہ 7 گھنٹے یا اس سے زیادہ انٹرنیٹ سے جڑی رہتی ہے: سعودی انٹرنیٹ 2025 رپورٹ
کمیونیکیشنز، سپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں انٹرنیٹ صارفین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے ٹولز اپنانے کی شرح تقریباً 45.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو جدید ترین ٹیکنالوجیز کے ساتھ صارفین کے وسیع ڈیجیٹل تعامل کا ایک اشارہ ہے۔
اسی وقت چیٹ جی پی ٹی، گوگل جیمینائی، ڈیپ سیک اور گروک سعودی عرب میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز کی فہرست میں سرفہرست رہیں۔ یہ بات "سعودی انٹرنیٹ 2025" رپورٹ کے پانچویں ایڈیشن میں بتائی گئی۔ اس رپورٹ میں مملکت میں انٹرنیٹ کے استعمال کے نمایاں اشارے واضح کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے نمایاں ترین استعمالات کا ذکر کیا گیا جو معلومات کی تلاش، خیالات کی تخلیق، مطالعہ اور تعلیم اور تصاویر، ویڈیوز یا پریزنٹیشنز بنانے کی شکل میں سامنے آئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب میں تقریباً 61.3 فیصد صارفین روزانہ 7 گھنٹے یا اس سے زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرنے میں گزارتے ہیں۔ یہ ڈیٹا روزمرہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں ڈیجیٹل انحصار کی وسعت کی عکاسی کر رہا ہے۔
السعودية ضمن أعلى 5 دول في مجموعة الـ20 بمؤشر سرعة الإنترنت المتنقل
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) July 19, 2026
شاهد التفاصيل.. pic.twitter.com/rCPtCs5WZn
اس رپورٹ نے سعودی عرب میں صارفین کے رویے سے متعلق سب سے اہم نتائج کی وضاحت کی ہے کیونکہ رپورٹ کے نتائج بتاتے ہیں کہ جمعہ کا دن ہفتے کے دوران مصروف ترین دن ہوتا ہے۔ استعمال کا سب سے زیادہ وقت رات نو بجے سے گیارہ بجے تک ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں سعودی عرب میں انٹرنیٹ کے استعمال کی رسائی کی شرح تقریباً 99.6 فیصد تک پہنچ گئی۔ "سعودی انٹرنیٹ 2025" رپورٹ نے مملکت میں ایپلی کیشنز اور ڈیجیٹل خدمات کے استعمال کے نمونوں کا جائزہ لیا۔ سوشل میڈیا اور سرکاری ایپلی کیشنز کے شعبوں میں سب سے زیادہ استعمال اور ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپلی کیشنز کا جائزہ لیا گیا۔