سعودی عرب میں بذریعہ روبوٹ پہلی تھرڈ پارٹی سرجری کا کامیاب تجربہ
ریاض میں کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کی ایک طبی ٹیم کے زیر کنٹرول سرجیکل روبوٹ استعمال کیا گیا
ریاض سے تعلق رکھنے والی ایک سعودی طبی ٹیم نے سعودی عرب کی سطح پر جدہ کے ایک مریض کی پہلی دور دراز روبوٹک سرجری کی ہے۔ یہ ملک میں صحت کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے کے لیے روبوٹک سرجری کی ٹیکنالوجیز کی موجودگی کو بڑھانے کی طرف ایک نمایاں تبدیلی ہے۔
اس واقعے کی تفصیلات سعودی وزارت نیشنل گارڈز کے ہیلتھ افیئرز کے اس اعلان سے معلوم ہوتی ہیں جس میں جدہ کے کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں ایک مریض پر سعودی عرب کی سطح پر پہلی دور دراز روبوٹک سرجری (Telesurgery) کے کامیاب انعقاد کا بتایا گیا ہے۔
الطبيب في الرياض.. والمريض في جدة والعملية نجحت بكل دقة 🤖
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) July 18, 2026
إنجاز طبي سعودي جديد يفتح آفاق جديدة للجراحة الروبوتية عن بُعد pic.twitter.com/VBfweLcTgu
اس سرجری میں ایک سرجیکل روبوٹ استعمال کیا گیا جسے ریاض کے کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کی ایک طبی ٹیم نے کنٹرول کیا۔ اس سرجری کو ایک ایسا کارنامہ قرار دیا گیا ہے جو جدہ اور ریاض دونوں شہروں میں یورولوجی اور کڈنی سرجری کے شعبوں کی جراحی ٹیموں کے درمیان یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ آپریشن KANGDUO - SageBot پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا کیونکہ ریاض میں جراحی کی ٹیم نے روبوٹک سرجری کی ٹیکنالوجیز اور جدید مواصلاتی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جدہ میں موجود مریض کا آپریشن کیا۔ یہ واقعہ مریضوں کو منتقل کرنے کی ضرورت کے بغیر شہروں کے درمیان خصوصی جراحی آپریشن کرنے کے مستقبل کے افق کو وسیع کر رہا ہے۔
سعودی عرب میں پہلی دور دراز سرجری کا انعقاد صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے اور مریض کی تکلیف کو کم کرنے کی طرف ایک نیا طبی رجحان ہے۔ سعودی عرب "Da Vinci"، "ROSA" اور "CORI" جیسے جدید روبوٹک سسٹمز کے استعمال کے ذریعے جراحی کے آپریشنز کرنے میں بھی واضح توسیع کا گواہ بن رہا ہے۔