یوکرین جنگ ختم ہو جانی چاہیے: قازقستان کے صدر کا پوتن سے مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے ہفتے کے روز روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے کہا ہے کہ یوکرین جنگ ختم ہو جانی چاہیے۔ روسی رہنما کے روبرو ایک غیر معمولی تبصرے میں انہوں نے اس تنازعہ کو "روک" دینے کا مطالبہ کیا۔

قازقستان روس کا اتحادی ہے لیکن اس نے کبھی بھی ماسکو کے یوکرین حملے کی حمایت کا اظہار نہیں کیا جس نے وسطی ایشیا میں کریملن کے شراکت داروں کو پریشان کر دیا ہے۔

"اس صورت حال سے کیسے نکلنا ہے؟ کوئی نہیں جانتا کیونکہ دونوں اطراف کی افواج پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔ لیکن دوسری طرف ایک ایسا موقع اور امکان ہے کہ یہ سب کچھ رک جائے،" توکایف نے سائبیریا کے اومسک میں روسی-قازق سربراہی اجلاس میں پوتن سے کہا۔

انہوں نے مزید کہا: "یہ شرم کی بات ہے؛ نوجوان مر رہے ہیں۔۔ یہ سب روکنا ہو گا۔"

"میں نے اپنی اعتدال پسند رائے کا اظہار کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ لوگ جانتے تھے کہ میرا اومسک آنے کا ارادہ تھا،" پوتن کے برابر بیٹھے ہوئے انہوں نے مزید کہا۔

توکایف نے پوتن کو بتایا، روس-یوکرین جنگ کی جڑیں "ہم سمیت کئی لوگوں کے لیے پوری طرح سے قابلِ فہم نہیں ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اگرچہ آرمینیا-آذربائیجان جنگوں کی ابتداء "واضح" تھی لیکن "اس جنگ کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔"

توکایف نے 2022 کے استنبول معاہدوں پر واپسی اور "پھر امن کی طرف بڑھنے کی تجویز پیش کی جس کا طویل عرصے سے انتظار ہے۔"

پیوٹن نے جواب میں کہا کہ وہ توکایف کو ملاقات کے دوران جنگ سے آگاہ کریں گے۔

چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور پوتن بارہا کہہ چکے ہیں کہ ماسکو مشرقی یوکرین کے بقیہ حصے پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں