اسرائیل میں ایک ڈاکٹر کے رقص نے مصر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی
طبی تنظیم کے بیان نے وضاحت کر دی
مصر کے طبی حلقوں میں اس وقت شدید غم و غصہ پھیل گیا، جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک خاتون ڈاکٹر کو دانتوں کے کلینک کے اندر رقص کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
تفصیلات کے مطابق وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک ڈینٹسٹ کو اپنے کلینک میں رقص کرتے دیکھا گیا، جبکہ سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ وہ مصری ڈاکٹر ہیں اور ان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
مصری نہیں تھیں
اس معاملے پر مصر کی ڈینٹسٹ ایسوسی ایشن نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات شروع کیں۔ جائزے اور تکنیکی جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ ویڈیو کا اصل تعلق اسرائیل کے ایک کلینک سے ہے۔
مصری ڈینٹسٹ ایسوسی ایشن نے اپنے سرکاری بیان میں تصدیق کی کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون ڈاکٹر مصری نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا مصر کے طبی شعبے سے کوئی تعلق ہے۔
تنظیم نے جعلی مواد کے پیچھے چلنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی چیزیں شیئر کرنے سے پہلے درست معلومات کی تصدیق اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس سے مصر کے طبی نظام کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مصری ڈاکٹروں کا نام جان بوجھ کر اس معاملے میں شامل کیا گیا تاکہ تنازع کھڑا کیا جا سکے اور ''ٹرینڈ'' کا فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کیے جا سکیں۔
تنظیم نے عوام سے اپیل کی کہ ایسی ویڈیوز یا خبری مواد شیئر کرنے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کریں اور انہیں غلط طور پر مصری ڈینٹسٹوں سے منسوب نہ کریں۔
مصری ڈینٹسٹ ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ملک کے ڈاکٹر پیشہ ورانہ اصولوں، اخلاقی ضابطوں اور طبی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرتے ہیں اور کئی برسوں سے شہریوں کو بہترین طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جعلی ''ٹرینڈز بنانے ''کا رجحان بڑھ رہا ہے، جہاں افواہوں اور ایڈیٹ شدہ ویڈیوز کو زیادہ ویوز، آمدنی اور فوری مقبولیت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔