امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اپنے یوکرینی ہم منصب ولودی میر زیلنسکی کا استقبال کر رہے ہیں۔ اس دوران زیلنسکی روس کے مقابلے میں امریکی صدر کی حمایت حاصل کرنے کی ایک اور کوشش کریں گے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یوکرین اور روس دونوں اپنے حملوں میں شدت لا رہے ہیں، جبکہ روسی جارحیت کے آغاز کے چار سال سے زائد عرصے بعد امریکہ کی قیادت میں ہونے والی سفارتی کوششیں جمود کا شکار ہو چکی ہیں۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاع اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون امریکی صدر اور ان کی ٹیم کے ساتھ ان کی ملاقاتوں میں پہلی ترجیح ہیں۔
زیلنسکی اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات کشیدگی کے حامل رہے ہیں، تاہم امریکی صدر نے حالیہ ہفتوں میں زیلنسکی کے لیے زیادہ لچک دکھائی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہل کار نے جمعے کے روز فرانس پریس ایجنسی کو بتایا تھا کہ دونوں صدور واشنگٹن میں منگل کے روز ملاقات کریں گے۔ اسی روز سینیٹر لنڈسے گراہم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی تقریب مقرر ہے جو یوکرینی معاملے کے شدید حامیوں میں سے تھے اور 11 جولائی کو 71 سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔
اپنی طرف سے زیلینسکی نے کہا "ہم امریکہ کے صدر اور ان کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں"۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ واشنگٹن یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا اور ہم اس جنگ کو امن کے ساتھ ختم کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔
اقتدار میں واپسی کے بعد سے ریپبلکن صدر ٹرمپ نے یوکرین کو براہِ راست امریکی اسلحے کی ترسیل بڑی حد تک روک دی ہے۔ اس کے بجائے PURL پروگرام کو ترجیح دی ہے جو یورپیوں کو اسلحہ خریدنے اور پھر اسے یوکرین منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
اس کے باوجود امریکہ یوکرین کا ایک اہم اتحادی برقرار ہے، کیونکہ وہ اسے خاص طور پر انٹیلی جنس معلومات اور "اسٹار لنک" نظام تک رسائی فراہم کرتا ہے جو محاذِ جنگ پر فوجی مواصلات کو یقینی بناتا ہے۔
واشنگٹن میں اکتوبر 2025 کی سابقہ ملاقات کے دوران، زیلنسکی امریکی صدر کو یوکرین کو "ٹوم ہاک" میزائل فراہم کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
فروری 2025 میں ایک اور ناقابلِ فراموش ملاقات میں اوول آفس میں کیمروں کے سامنے دونوں صدور کے درمیان زبانی تکرار ہوئی تھی، جہاں ٹرمپ نے زیلنسکی پر احسان فراموشی اور تیسری عالمی جنگ کو بھڑکانے کا خطرہ مول لینے کا الزام لگایا تھا۔
لیکن امریکی صدر نے بعد میں اپنا موقف تبدیل کر لیا اور جولائی کے شروع میں ترکیہ میں آخری ملاقات کے دوران انہوں نے زیلنسکی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ "شان دار کام" کر رہے ہیں۔
انہوں نے یوکرین کو پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل تیار کرنے کی اجازت دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی جس کی روس کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے شدید ضرورت ہے۔
اسی طرح ولودی میر زیلنسکی نے گذشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے دو مندوبین، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ اس کا مقصد فروری کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑنے کے بعد سے معطل شدہ "سفارت کاری کو دوبارہ فعال کرنا" تھا۔
روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی سابقہ امریکی کوششوں کا کوئی نمایاں نتیجہ نہیں نکلا، جس کی وجہ یوکرینی علاقوں سے متعلق مسئلے پر اختلافات ہیں جن پر روس دعویٰ کرتا ہے۔
پیر کے روز کرملین کے ترجمان دمتری پیسکوف نے فضائی حدود میں جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کی تردید کی۔ انہوں نے جولائی کے شروع میں خبردار کیا تھا کہ روسی سرزمین کے اندر یوکرینی حملوں میں شدت جنگ کو طویل کرنے کا باعث بنے گی۔
یوکرین حالیہ ہفتوں میں روسی تیل کی ریفائنریوں اور ذخائر پر اپنے حملوں میں شدت لایا ہے جس کے نتیجے میں ایندھن کا بحران پیدا ہوا۔ نیز اس نے بحرِ ازوف میں مال بردار جہازوں اور روسی ای کامرس کی بڑی کمپنی "وائلڈ بیریز" کے متعدد گوداموں کو بھی نشانہ بنایا۔
اپنی طرف سے روس شدید بمباری کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے جس نے یوکرینی بندرگاہ اوڈیسا اور اسے استعمال کرنے والے جہازوں کو بار بار نشانہ بنا کر سمندر کے ذریعے یوکرینی زرعی برآمدات کو روک دیا ہے۔
-
روس شمالی کوریا سے 30 ہزار فوجی طلب کرنا چاہتا ہے: زیلنسکی
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ہفتے کے روز کہا کہ روس چار سال سے جاری جنگ میں ...
بين الاقوامى -
روسی فائرنگ کا نشانہ بننے کے ایک ہفتے بعد جہاز ڈوب گیا: یوکرینی حکام
ایک بین الاقوامی مال بردار بحری جہاز اتوار کو یوکرین کی بحیرۂ اسود کی بندرگاہ ...
بين الاقوامى -
ایرانی آئل ٹینکر پر یوکرینی حملہ، ٹرمپ کے لیے پیوٹن کے خلاف سیاسی پیغام قرار
یوکرین ایک ایرانی مال بردار جہاز کو نشانہ بنانے والی کارروائی کو اس مقصد کے لیے ...
بين الاقوامى