.

مصر میں اسلامی نظام کا مطالبہ مجھے بہت کھلتا ہے پوپ تواضروس

'قبطیوں کی مصر سے ہجرت کا سبب اخوانی حکومت نہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے قبطی عیسائیوں کے نو منتخب مذہبی پیشوا بشپ الأنبا تواضروس کا کہنا ہے کہ ملک میں دستور کو اسلامی بنانے اور اسلامی شریعت کے نفاذ کے مطالبات پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصر سے بعض قبطیوں کی ہجرت کا سبب اخوان المسلمون نہیں بلکہ لوگ اپنی مرضی سے دوسرے ممالک ہجرت کر رہے ہیں۔



قبطی بشپ نے ان خیالات کا اظہار العربیہ ٹی وی کی قاہرہ میں نامہ نگار راندہ ابوالعزم کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں الأنبا تواضروس نے کہا کہ میں اسلامی شریعت کے مطالبے کے لیے لوگوں کا سڑکوں پر نکلنے کا مخالف نہیں ہوں۔ جمعہ کے روز اگر تحریر اسکوائر میں ایک ملین افراد نفاذ شریعت کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ ان کا اظہار رائے کا حق ہے۔ البتہ مجھے تشویش اس بات پر ہے کہ ملک میں نئے دستور میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے مطالبات کیوں پیش کیے جا رہے ہیں۔



انہوں نے کہا کہ سابقہ آئین کی شق 2 کو اس کی اصل شکل میں برقرار رہنے دیا جائے۔ اس شق میں یہ بات پہلے ہی تسلیم کر لی گئی ہے کہ ملک میں اسلامی شریعت کے اصول ہی آئین سازی کا ماخذ ہوں گے۔



قبطیوں کی جانب سے اپنے روحانی پیشوا کے سیاست سے دور رہنے کے مطالبے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بشپ تواضرورس کا کہنا تھا کہ ’’میں جس منصب پر فائز ہوں یہ بنیادی طور پر ایک روحانی منصب ہے کیونکہ چرچ ایک روحانی ادارہ ہے۔ البتہ میرے پیشرو آنجہانی فادر شنودہ نے قبطیوں کی صفوں سے انتشار کے خاتمے کے لیے سیاست کو فرض قرار دیا تھا۔



مصر کی اسلامی جماعت اخوان المسلمون کے دور حکومت میں قبطیوں کی بیرون ملک منتقلی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ قبطیوں نے اس وقت ملک سے ھجرت کرنا شروع کی تھی جب دو سال قبل سابق صدر کے خلاف عوامی بغاوت کی تحریک اٹھی تھی اور قبطیوں کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق تھے۔ اس کے بعد سے قبطیوں کی بیرون ملک آمد ورفت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا اخوان المسلمون کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔



قبطی باشندوں کے بیت المقدس میں مذہبی مقامات کی زیارت کے سے متعلق سوال پر روحانی پیشوا نے واضح کیا اس معاملے میں وہ اپنے پیش رو فادر شنودہ کے نقش قدم پر چلیں گے۔ پوپ شنودہ نے قبطیوں کو اس وقت تک بیت المقدس میں اپنے مقدس مقامات کی زیارت سے منع کیا تھا۔ جب تک تمام مسلمان اور مصری شہریوں کو القدس میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔



خیال رہے کہ مصر میں قبطی مسیحی طبقے کے نمائندہ مذہبی روحانی پیشوا الأنبا تواضروس کا انتخاب چار نومبر کو قاہرہ میں عمل میں لایا گیا تھا۔ وہ آرتھوڈوکس فرقے کے 118 مذہبی پیشوا ہیں۔