.

برلن میں متعین چار شامی سفارت کاروں کو جرمنی چھوڑنے کا حکم

شامی باغیوں کا حلب کے نواح میں فوجی اڈے پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جرمنی نے صدر بشارالاسد کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے برلن میں شامی سفارت خانے میں متعین چاراہلکاروں کو ملک سے چلے جانے کا حکم دیا ہے۔

جرمن وزیرخارجہ گائیڈو ویسٹر ویلےنے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم شامی سفارت خانے کے عملے کے چار ارکان کو بے دخل کرکے اسد رجیم کو ایک واضح پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو کم سے کم سطح پر لے جارہے ہیں''۔

قبل ازیں جرمن وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ''برلن میں متعین شام کے قائم مقام سفیر کو آج فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے اور عملے کو جمعرات تک اپنے عہدے چھوڑنے اور ملک سے چلے جانے کا حکم دیا گیا ہے''۔ واضح رہے کہ جرمنی نے مئی میں برلن میں متعین شامی سفیر کو بے دخل کردیا تھا۔

بیرونی دباؤ سے آزاد مستقبل

درایں اثناء روس نے کہا ہے کہ شام کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ باہر سے مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔روسی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی اور روسی اور امریکی حکام کے درمیان اتوار کو مذاکرات کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے اور اس میں شام میں تشدد کے خاتمے اور انتقال اقتدار کے اصول وضوابط وضع کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''شام کے سیاسی نظام میں اصلاحات کے بارے میں شامیوں کو خود ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے اور وہاں کوئی بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیے یا باہر سے سیاسی،سماجی پیش رفت کرنے کی کوششیں نہیں ہونی چاہئیں''۔روس اور چین شامی صدر بشارالاسد کو بہ زور اقتدار سے نکال باہر کرنے کی مخالفت کررہے ہی

فوجی اڈے پر باغیوں کا قبضہ

ادھر شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں نے شمالی شہر حلب کے مغرب میں واقع ایک اور فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔اس کارروائی کے بعد باغیوں کا ترکی کی سرحد کی جانب واقع وسیع علاقے پر کنٹرول اور بھی مضبوط ہوگیا ہے۔

شام کے شمالی علاقے ہی میں حلب اور دمشق کے درمیان شاہراہ پر واقع ایک شہر میں باغیوں کے حملے میں تیرہ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ باغی جنگجو کئی ہفتے تک جاری رہی لڑائی کے بعد اتوار کی سہ پہر شیخ سلیمان ملٹری بیس میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔باغی جنگجوؤں نے گذشتہ ماہ بھی حلب کے نواح میں واقع ایک اور فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ شیخ سلیمان بیس پر دھاوا بولنے اور قبضہ کرنے والے جنگجوؤں کا سخت گیر گروپوں سے تعلق ہے اور اس محاذ پر شامی فوج کے ساتھ لڑائی میں النصرۃ محاذ ،مجاہدین شوریٰ کونسل اور مہاجرین گروپ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے حصہ لیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ النصرۃ محاذ کو القاعدہ کے ساتھ مبینہ تعلقات کی بنا پر دہشت گرد تنظیم قرار دینے والی ہے۔