"میں القاعدہ کی سوچ کا حامی نہیں"

القاعدہ تکفیر اور خون بہانے میں دیر نہیں لگاتی: العریفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے درالحکومت میں ریاض یونیورسٹی کے پروفیسر اور ملک کے نامور اسلامی اسکالر الشیخ محمد العریفی کا کہنا ہے کہ القاعدہ مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے باہر نکالنے میں قطعاً سستی کا مظاہرہ نہیں لگاتی اور نہ اسے مسلمانوں کا خون بہانے میں کوئی تامل ہوتا ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر العریفی نے کہا: "میرا تعلق القاعدہ سے نہیں اور نہ میں ان کے نظریات کا حامی ہوں، تاہم اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے کہ جب بات کرو، تو عدل کرو۔"

محمد العریفی نے بتایا کہ القاعدہ کے مرحوم رہنما وہ نظریات نہیں رکھتے تھے جن کا پرچار یہ تنظیم ان دنوں کر رہی ہے۔ الشیخ العریفی کے بہ قول: "الشیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کا موجودہ القاعدہ کے نظریات سے دور دور کا تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے سعودی عالم دین نے کہا کہ القاعدہ سے بعض اوقات ایسی باتیں منسوب کر دی جاتی ہیں کہ جن کا وہ پرچار نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ان باتوں کے ذکر کا مقصد ان کا دفاع کرنا نہیں اور نہ ہی میرا ان سے کوئی ہے، تاہم اصل بات یہی ہے کہ جب بات کی جائے تو عدل کیا جائے۔

ادھر ٹی وی پروگرام کے نشر ہونے کے فورا بعد سماجی رابطے کے فورم ٹیوٹر پر ایک ہیش ٹیگ کی ترویج شروع ہو گئی۔ اس ہیش ٹیگ کا عنوان: "العریفی_کی جانب سے _ القاعدہ کا _ دفاع" ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں