.

"میں القاعدہ کی سوچ کا حامی نہیں"

القاعدہ تکفیر اور خون بہانے میں دیر نہیں لگاتی: العریفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے درالحکومت میں ریاض یونیورسٹی کے پروفیسر اور ملک کے نامور اسلامی اسکالر الشیخ محمد العریفی کا کہنا ہے کہ القاعدہ مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے باہر نکالنے میں قطعاً سستی کا مظاہرہ نہیں لگاتی اور نہ اسے مسلمانوں کا خون بہانے میں کوئی تامل ہوتا ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر العریفی نے کہا: "میرا تعلق القاعدہ سے نہیں اور نہ میں ان کے نظریات کا حامی ہوں، تاہم اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے کہ جب بات کرو، تو عدل کرو۔"

محمد العریفی نے بتایا کہ القاعدہ کے مرحوم رہنما وہ نظریات نہیں رکھتے تھے جن کا پرچار یہ تنظیم ان دنوں کر رہی ہے۔ الشیخ العریفی کے بہ قول: "الشیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کا موجودہ القاعدہ کے نظریات سے دور دور کا تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے سعودی عالم دین نے کہا کہ القاعدہ سے بعض اوقات ایسی باتیں منسوب کر دی جاتی ہیں کہ جن کا وہ پرچار نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ان باتوں کے ذکر کا مقصد ان کا دفاع کرنا نہیں اور نہ ہی میرا ان سے کوئی ہے، تاہم اصل بات یہی ہے کہ جب بات کی جائے تو عدل کیا جائے۔

ادھر ٹی وی پروگرام کے نشر ہونے کے فورا بعد سماجی رابطے کے فورم ٹیوٹر پر ایک ہیش ٹیگ کی ترویج شروع ہو گئی۔ اس ہیش ٹیگ کا عنوان: "العریفی_کی جانب سے _ القاعدہ کا _ دفاع" ہے۔