.

مصر: صحرائے سینا حملے، فوجی افسر سمیت چھے اہلکار زخمی

دو ہفتوں میں 13 افراد جاں بحق، جلد فوجی آپریشن کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں صحرائے سینا کے علاقے میں تین مختلف فوجی کیمپوں پر حملے کرکے عسکریت پسندوں نے مصری فوج کے ایک افسر اور پانچ اہکار وں کوزخمی کر دیا ہے۔ دو ہفتوں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 ہو گئی۔ طویل عرصے سے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے سینا کے علاقے میں متوقع فوجی آپریشن جلد ہونے کا امکان ہے۔

مصری سرحدی علاقے صحرائے سینا، جہاں مصر - اسرائیل امن کے معاہدے کے باعث مصر کی فوجی موجودگی محدود ہے، کے بارے میں عریش سے تعلق رکھنے والے اخبار نویس ابو درا کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں اب مصری فوج میں اضافہ اور مزید آلات جنگ کی اطلاعات ہیں۔ درایں اثناء بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق حملہ آور گشتی طیارہ شکن راکٹوں اور مشین گنوں سے غزہ کی سرحدی پٹی کے آس پاس کے فوجی کیمپوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ان فوجی کیمپوں پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں دھماکوں کی آوازیں غزہ باڑدر کے قریب مصری شہر رفح میں بھی سنی جاتی ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق قانون کی عملداری سے محروم صحرائے سینا میں موجود اسلام پسندوں اورغزہ کی پٹی سے گزشتہ دو برسں کے دوران پولیس اور فوج پر ہونے والے حملوں نےصورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ خصوصا حسنی مبارک حکومت کے خاتمے کے بعد ان واقعات میں اضافہ ہوا جبکہ صدر مرسی کی برطرفی سے لیک اب تک تقریبا ہر روز ہونے والے ان حملوں میں 13 کے لوگ مارے جا چکے ہیں۔