.

غرب اردن کی 20 یہودی بستیاں اسرائیل کی ترجیحی امدادی فہرست میں شامل

واشنگٹن میں اسرائیل، فلسطین مذاکرات کی بحالی کے باوجود یہودی آباد کاری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے غرب اردن کے کنارے قائم بیس یہودی بستیوں کو 2009ء میں وضع کردہ امداد کی حق دار یہودی کمیونٹیوں کی ترجیحی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

اس فہرست میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم سیکڑوں یہودی بستیاں شامل ہیں جنھیں تعمیرات، انفرا اسٹرکچر، تعلیم، ثقافتی سرگرمیوں اور سکیورٹی کے لیے صہیونی ریاست کے قومی خزانے سے امداد مہیا کی جاتی ہے۔

اسرائیلی روزنامے ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق ترجیحی فہرست میں ان یہودی بستیوں کو شامل کیا گیا ہے جنھیں اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کی صورت میں اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔ ان میں سے بیشتر بستیاں انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل یہودی قبضہ گیروں کی جماعت ''جیوش ہوم'' کا مضبوط گڑھ بتائی جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے گذشتہ تین سال سے دوطرفہ براہ راست مذاکرات معطل رہے ہیں اور ان کے درمیان گذشتہ ہفتے ہی واشنگٹن میں امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات بحال ہوئے ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس ماضی میں یہودی آباد کاری جاری رہنے کی صورت میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کرتے رہے تھے۔