.

حسنی مبارک کی متوقع رہائی پر مصری عوام تقسیم

رہائی کے بعد محفوظ فوجی ہسپتال میں رہیں گے: عبوری حکومت ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں تیس برس تک حکمران رہنے کے بعد 2011 کی عرب بہاریہ تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہونے والے سابق صدرحسنی مبارک کی رہائی کے فیصلے پر مصری قوم تقسیم ہے۔ عوام کی بڑی تعداد مبارک کے دور کوملک کے لیے تباہ کن قرار دیتی ہے۔

اس لیے حسنی مبارک کو امکانی طور پر رہائی کے بعد بھی فوجی ہسپتال یا اہم تنصیبات کی حامل ریاستی عمارات میں سے کسی جگہ پر انتہائی حفاظت میں رکھا جا ئے گا۔ مصر کے قانونی ذرائع کے مطابق حسنی مبارک کی رہائی جمعرات کے روز تک ہو سکتی ہے ۔

عبوری وزیر اعظم حاذم الببلاوی کے دفتر سے متعلق ذرائع کے مطابق مصر کے سابق مرد آہن کو جیل سے رہائی کے بھی '' نظر بند '' ہی رکھا جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اقدام ان مصری عوام کے اطمینان کے لیے ہوگا جو مبارک کی رہائی کے خلاف ہیں۔ خصوصا ایسے لوگ جنہوں نے 2001 کی تحریک میں مبارک آمریت کے خاتمے کے لیے بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا تھا۔

اس سے پہلے مصری عدالت نے حسنی مبارک کو مظاہرین کی حفاظت کی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی بنیاد پر عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم بعد ازاں عدالت نے ان کے خلاف از سرنو مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا اور اب مرسی کے حامیوں کی ہلاکتوں کے خونریز ماحول کے بعد مبارک کی رہائی کے حق میں فیصلہ سامنے آیا ہے۔

مصر کے ایک چھیاسٹھ سالہ انجنیئیرحسن محمد کا مبارک رہائی فیصلے پر کہنا ہے'' اس کا دور حکومت ایک برا دور تھا، کیونکہ اس نے ملک کو غیر معمولی نقصان پہنچایا، بے روز گاری عام اور تعلیم و صحت کی سہلتیں مفقود تھیں، اس لیے مبارک کی رہائی کے فیصلے کا دن ملک کے لیے مبارک نہیں ہے ۔''

ایک جوس شاپ پر کام کرنے والے امر فتحی نے بھی مبارک کی رہائی کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا'' بلاشبہ میں اس فیصلے پر خوش نہیں ہوں، اس فیصلے نے قوم کو ماضی میں دھکیل دیا ہے۔''