.

لبنان: طرابلس میں دو مساجد کے باہر بم دھماکے،29 افراد ہلاک

نجیب میقاتی کے گھر کے نزدیک بم دھماکے کے بعد کاروں کو آگ لگ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں دو مساجد کے باہر بم دھماکوں میں انتیس افراد جاں بحق اور کم سے کم پانچ سو زخمی ہوگئے ہیں۔

لبنانی حکام کے مطابق طرابلس کے وسط میں سبکدوش ہونے والے وزیراعظم نجیب میقاتی کی قیام گاہ کے نزدیک واقع مسجد التقویٰ کے باہر پہلا بم دھماکا اس وقت ہوا جب ابھی جمعہ کی نماز ختم ہوتی ہوئی تھی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ بم دھماکے سے مسجد کے باہر کھڑی متعدد کاروں کو آگ لگ گئی۔ ایک عینی شاہد نے ان کاروں میں سات لاشیں دیکھنے کی اطلاع دی ہے۔

اس واقعے کے پانچ منٹ کے بعد طرابلس کی بندرگاہ کے نزدیک واقع مسجد السلام میں دوسرا دھماکا ہوا۔ لبنان کی مستقبل تحریک سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان مصطفیٰ آلوش نے بتایا کہ اس بم دھماکے میں چھے افراد مارے گئے ہیں۔

مصطفیٰ آلوش صورت حال کی سنگینی کا اندازہ کرنے کے لیے مسجد کے نزدیک واقع اسپتال پہنچے تھے جہاں بم دھماکے میں زخمیوں اور لاشوں کو منتقل کیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اب زخمیوں کو شہر کے دوسرے اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے کیونکہ اس اسپتال میں مزید گنجائش نہیں رہی ہے۔

ابتدائی طور پر دونوں بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد تیرہ بتائی گئی تھی لیکن بعد میں ہلاکتوں کی تعداد انتیس ہوگئی ہے۔ بعض شدید زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے جس کے پیش نظر ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔فوری طورپر کسی گروپ نے شمالی شہر میں ان دونوں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

واضح رہے کہ لبنان میں پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی کے متحارب فریقوں کی حمایت اور مخالفت کی بنا پرشدید کشیدگی پائی جارہی ہے اور طرابلس میں گذشتہ مہینوں کے دوران اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان مسلح جھڑپوں میں متعدد افراد مارے جاچکے ہیں۔لبنانی دارالحکومت بیروت میں اس سے پہلے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مضبوط مراکز میں بم دھماکے ہوچکے ہیں لیکن طرابلس میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس طرح اہل سنت کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

طرابلس میں لبنان میں نوے کے عشرے میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد دہشت گردی کا یہ سب سے سنگین واقعہ ہے۔گذشتہ ہفتے بیروت میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز کے نزدیک تباہ کن بم دھماکے میں چوبیس افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ شام سے تعلق رکھنے والے ایک غیر معروف گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔