.

عالمی برادری شام کو کیمیائی اسلحہ سے پاک کرنے کے اقدامات کرے: اسرائیل

شام کے حوالے سے عالمی خاموشی ناقابل فہم ہے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے صدر شمعون پیریز نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ شام کو کیمیائی اسلحے سے پاک ملک قرار دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں گذشتہ ہفتے نہتے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد خطے کی سلامتی بھی خطرے سے دوچار ہوچکی ہے۔

اسرائیلی صدر نے ان خیالات کا اظہار فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری شام کے کیمیائی خطرے کا تدارک کرتے ہوئے دمشق کو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے ٹھوس اقدامات کرے"۔ تاہم اسرائیلی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا وہ شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی بات کر رہے ہیں یا دیگر ذرائع سے ایسا کرنے کے حامی ہیں۔

مسٹر پیریز کا کہنا تھا کہ "میں مانتا ہوں کی شام کی صورت حال نہایت پیچیدہ اور نازک ہوچکی ہے لیکن موجودہ خطرناک حالات کو قابو میں لانے کے لیے عالمی برادری کی ذمہ داریاں بھی بڑھ چکی ہیں"۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے شامی حکومت کی حامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کے دوران دمشق کے قریب مشرقی اور مغربی الغوطہ میں تباہ کن کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جن کے نتیجے میں کم سے کم تیرہ سو افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے۔

شہریوں کےاس بہیمانہ قتل عام پرعالمی برادری میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ باغیوں کی جانب سے شامی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم دمشق حکومت ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے قتل عام کی ذمہ داری باغیوں پرعائد کر رہی ہے۔

اسرائیلی صدر نے اسی تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ شام میں بغاوت کی دوسالہ تحریک میں ابھی تک بچوں اور عورتوں کو کیمیائی ہتھیاروں ہلاک کرنے کا ایسا کوئی ہولناک واقعہ پیش نہیں آیا ہے جیسا کہ الغوطہ دیکھا گیا۔

بعد ازاں اسرائیل کے دورے پر آئے فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیئس نے کہا کہ "شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے اب تک ملنے والے تمام شواہد سے بشارالاسد ہی ذمہ دار قرار دیے جا رہے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ شام میں کیمیائی اسلحے کے ذریعے شہریوں کے ہولناک قتل عام کے بعد عالمی برادری کی جانب سے خاموشی کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ بشارالاسد کے جنگی جرائم کے شواہد سامنے آنے کے بعد بھی عالمی برادری خاموش تماشائی بنی رہی تو لوگ کس طرح اس پراعتماد کریں گے۔